روسی اثاثوں کی ضبطی ‘جنگ کا اعلان’ ہوگی: بیلجیئم کے وزیراعظم کا سخت انتباہ

Bart De Wever Bart De Wever

روسی اثاثوں کی ضبطی ‘جنگ کا اعلان’ ہوگی: بیلجیئم کے وزیراعظم کا سخت انتباہ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بیلجیئم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں منجمد روسی اثاثوں کی ضبطی ماسکو کے خلاف “جنگ کا اعلان” کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “آپ پیسے کو صرف ضبط نہیں کر سکتے — یہ جنگ کا عمل ہے۔ اسے کم نہ سمجھیں۔” ڈی ویور نے زور دیا کہ “ہم روس کے ساتھ جنگ میں نہیں ہیں، یورپ روس کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے۔” انہوں نے یاد دلایا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران بھی منجمد اثاثے کبھی ضبط نہیں کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی اثاثوں کی ضبطی ناقابلِ یقین ہوگی اور مالی نظام اور یورو زون کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
یاد رہے کہ یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد فروری 2022 سے مغربی ممالک نے تقریباً 300 ارب ڈالر کے روسی مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں جن میں سے تقریباً 216 ارب ڈالر بیلجیئم میں قائم ڈپازٹری یورو کلیئر کے پاس ہیں۔
بیلجیئم نے یورپی یونین کے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی جس میں ان اثاثوں کو کیئف کے لیے 90 ارب یورو (105 ارب ڈالر) کے “معاوضہ قرض” کی ضمانت کے طور پر استعمال کیا جانا تھا۔ یورپی کمیشن کو گزشتہ ماہ اس منصوبے کے لیے بلاک رہنماؤں کی حمایت حاصل نہ ہوئی اور اسے مشترکہ قرض اٹھانے کی طرف موڑ دیا گیا۔
گزشتہ دسمبر میں لائیو سوال و جواب کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے روسی اثاثوں کی “چوری” جدید مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا دے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “جو بھی وہ چوری کریں گے اور جیسے بھی کریں گے، ایک دن اس کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔” گزشتہ سال کے آخر میں ماسکو نے یورو کلیئر کے خلاف آربٹریشن کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم یورپی کمیشن نے اپنے اصل منصوبے کو ترک نہیں کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس نے کہا کہ متنازع تجویز “اب بھی میز پر موجود ہے۔”