یورپی یونین کونسل کی روسی گیس کی فراہمی پر مکمل پابندی کی منظوری
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
یورپی یونین کونسل نے روس سے مائع قدرتی گیس اور پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی پر مکمل پابندی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یورپی یونین کونسل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق روسی ایل این جی کی یورپی یونین میں درآمد پر یکم جنوری دو ہزار ستائیس سے پابندی عائد ہوگی، جبکہ روسی پائپ لائن گیس پر تیس ستمبر دو ہزار ستائیس سے پابندی نافذ کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضابطے کے تحت روسی پائپ لائن گیس اور ایل این جی کی یورپی یونین میں درآمد ممنوع ہوگی۔ یہ پابندی ضابطے کے نافذ ہونے کے چھ ہفتے بعد لاگو ہونا شروع ہو جائے گی، جبکہ پہلے سے موجود معاہدوں کے لیے عبوری مدت دی جائے گی۔ یورپی یونین کونسل کے مطابق مرحلہ وار طریقہ کار اختیار کرنے کا مقصد قیمتوں اور مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کو محدود رکھنا ہے۔ مکمل پابندی ایل این جی کے لیے دو ہزار ستائیس کے آغاز سے اور پائپ لائن گیس کے لیے دو ہزار ستائیس کے موسم خزاں سے نافذ ہوگی۔
یورپی یونین کونسل نے دو ہزار ستائیس کے بعد روسی گیس کی خریداری کی پابندی کی خلاف ورزی پر سزاؤں کا بھی اعلان کیا ہے۔ پریس سروس کے مطابق نئے قوانین کی خلاف ورزی پر افراد پر کم از کم پچیس لاکھ یورو جرمانہ، جبکہ کمپنیوں پر کم از کم چار کروڑ یورو جرمانہ، یا کمپنی کی عالمی سالانہ آمدن کا کم از کم تین اعشاریہ پانچ فیصد، یا لین دین کی متوقع مالیت کا تین سو فیصد جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو رواں سال یکم مارچ تک گیس کی فراہمی کے متبادل ذرائع کے لیے قومی منصوبے تیار کرنا ہوں گے اور روسی گیس کے متبادل میں ممکنہ مشکلات کی نشاندہی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو باقی ماندہ روسی گیس معاہدوں سے متعلق حکام اور یورپی کمیشن کو آگاہ کرنا لازم ہوگا، جبکہ وہ ممالک جو اب بھی روسی تیل درآمد کر رہے ہیں، انہیں بھی سپلائی میں تنوع کے منصوبے جمع کرانا ہوں گے۔