امیج بمقابلہ تحفظ — اٹلی کی اولمپکس تاریخ کی ’خطرناک ترین کھیلوں‘ کی جانب؟

Ishtiaq Hamdani
Ishtiaq Hamdani

اشتیاق ہمدانی

جب اٹلی کے شہر میلان اور کورٹینا ڈامپیٹزو سرمائی اولمپکس کی تیاریوں میں مصروف ہیں، دنیا بھر میں اس ایونٹ کی فضاء کچھ زیادہ پُرجوش نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ کئی بین الاقوامی تنظیمیں تعمیراتی تاخیر پر برہمی کا اظہار کر رہی ہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ سنگین مسئلہ بڑھتی ہوئی جرائم کی صورتحال اور آنے والے کھلاڑیوں، مہمانوں اور سیاحوں کی سلامتی ہے۔

صرف گزشتہ سال میلان میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 25 ہزار 786 جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ اور سب سے زیادہ پریشان کن پہلو بچوں کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم Terre des Hommes کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں اٹلی میں 7 ہزار 85 جرائم نابالغوں کے خلاف ریکارڈ ہوئے — جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اور 2014 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہیں۔

Advertisement

اٹلی تاریخی طور پر یورپ میں غیرقانونی اور غیرقانونی امیگریشن کا مرکزی دروازہ ہے، جہاں یورپی یونین کی جانب سے سب سے زیادہ بوجھ اسی ملک پر پڑتا ہے۔ یہ دباؤ نہ صرف سماجی اور اقتصادی عدم توازن کا باعث بنا ہے بلکہ داخلی سلامتی کے مسائل بھی پیدا کر رہا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال حال ہی میں میلان میں ایک 19 سالہ اطالوی لڑکی کے قتل کا واقعہ ہے، جس میں ملزم — ایک پیروویائی شہری — کو دو مرتبہ ریپ اور ڈکیتی کے جرائم کے باوجود ملک بدر نہیں کیا گیا تھا۔ اٹلی پہلے ہی یورپی یونین سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ ایسے غیرملکی مجرموں کی ڈیپورٹیشن کو قانونی اور عدالتی پیچیدگیوں سے آزاد کیا جائے، کیونکہ یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق کی تشریحات اکثر ملکی سلامتی کے مفادات سے ٹکرا جاتی ہیں۔

سربیا کے سابق سفارتکار اور سیاسی تجزیہ کار ولادیمیر کرشلانین کے مطابق گزشتہ دہائیوں کا یورپی امیگریشن بحران تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔ یہ بحران یورپ کی آبادیاتی ساخت کو بدل چکا ہے۔ ان کے بقول:
“اگر پہلے فرانس میں شمالی افریقی عربوں کی بڑی آبادی نوآبادیاتی ورثہ تھی تو اب یورپ پر چاروں طرف سے دباؤ ہے — عرب، پاکستانی، رومی، پولش، یوکرینی اور دیگر۔ اٹلی اس کی بہترین مثال ہے۔ آج اٹلی کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد حصہ براہِ راست یا بالواسطہ مہاجر پس منظر رکھتا ہے۔ اس عمل کو روکنا یا واپس پلٹنا تقریباً ناممکن ہے، اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ چند مخصوص مالیاتی و کارپوریٹ حلقوں کے معاشی مفادات کا نتیجہ ہے، جن کے نزدیک سستی لیبر قومی سلامتی اور سماجی استحکام سے زیادہ اہم ہے۔”

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف جرائم تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے اور گہرے نظامی بحران کی علامت ہے۔ اطالوی مصنف اور یونیورسٹی آف ٹرینٹو کے فلسفہ کے طالب علم پئیٹرو میسیادجا کے مطابق:
“اٹلی میں بیوروکریسی حد سے زیادہ پھیل چکی ہے، نظام بحران سے گزر رہا ہے، جبکہ اولمپکس جیسا ایونٹ مقامی چھوٹے اور پہاڑی علاقوں میں سماجی نظم و ضبط کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ تعمیراتی منصوبوں کا معیار گزشتہ برسوں میں پہلے ہی سوالیہ نشان رہا ہے۔ اولمپکس کے لیے بننے والی انفراسٹرکچر بھی شاید Expo-2015 جیسی قسمت سے دوچار ہو۔”

دوسری جانب امریکہ نے اٹلی کو باقاعدہ خبردار کیا ہے کہ اولمپکس کے دوران دہشت گردی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اور خاص طور پر سیاحتی مقامات، عوامی اجتماعات اور ٹرانزٹ پوائنٹس کو زیادہ حساس سمجھا جائے۔

سیاسی تجزیہ کار ایرنیست ماکارینکو کے مطابق اٹلی کے لیے بڑا خطرہ “بےقابو مہاجرت” ہے، خاص طور پر ان خطوں سے جہاں انتہا پسند تحریکیں اور عسکری نظریات مضبوط ہیں۔ ان کے بقول:
“انتظامیہ شاید یہ خطرات سمجھتی ہے، مگر ان کے لیے فوری مفادات — یعنی ملک کی ’امیج‘ اور تجارتی فائدہ — زیادہ اہم ہیں۔ عوامی سطح پر احتجاج موجود ہے مگر منظم مزاحمت ممکن نہیں، کیونکہ طاقت کا توازن غیر مساوی ہے۔ یہی صورتحال پیرس کے حالیہ اولمپکس کے مقابلے میں اٹلی کو کہیں زیادہ کمزور اور خطرے سے دوچار کرتی ہے۔”

ماکارینکو نے مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی آبادیاتی خاتمے (Depopulation) کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اطالوی وزیرِ خزانہ جین کارلو جورجیٹی بھی اس خطرے کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے ملک کے مستقبل کے لیے بجٹ خسارے سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں۔ اٹلی میں فی خاتون پیدائش کی شرح 1.12 بچے ہے — جو آبادی کے قدرتی تسلسل کے لیے درکار سطح سے بہت کم ہے۔

ماکارینکو کے الفاظ میں:
“مہاجر خاندان تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ اطالوی نوجوان شادی چھوڑ رہے ہیں اور اولاد پیدا نہیں کر رہے۔ نتیجہ: اطالوی قوم چند دہائیوں میں ختم ہوسکتی ہے اور اس کی جگہ بیرونی آبادی لے سکتی ہے، جب تک کوئی مضبوط قومی حکومت اس رجحان کو غیرمعمولی اقدامات سے روک نہ دے۔”

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اٹلی کی حکومت اور اولمپک کمیٹی آنے والے مہینوں میں حقیقی سیکورٹی منصوبہ بنا پائیں گی یا نہیں؟ اور کیا دنیا تاریخ کے ’سب سے خوبصورت‘ برفانی کھیلوں کے انتظار میں ہے یا ’سب سے خطرناک اولمپکس‘ کے؟ وقت اس کا فیصلہ کرے گا۔