ٹرمپ کی کینیڈین طیاروں پر پابندی کی دھمکی، بھاری ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

Donald Trump Donald Trump

ٹرمپ کی کینیڈین طیاروں پر پابندی کی دھمکی، بھاری ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا میں تیار کیے جانے والے طیاروں کو ڈی سرٹیفائی کرنے اور امریکہ میں ان کی فروخت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کینیڈا نے امریکی کمپنی گلف اسٹریم کے بعض بزنس جیٹس کی سرٹیفیکیشن سے انکار کیا ہے، جس کے جواب میں امریکہ کینیڈین کمپنی بمبارڈیئر کے تیار کردہ گلوبل ایکسپریس طیاروں سمیت تمام کینیڈین ساختہ طیاروں کی سرٹیفیکیشن منسوخ کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو امریکہ میں فروخت ہونے والے تمام کینیڈین طیاروں پر پچاس فیصد ٹیرف نافذ کر دیا جائے گا۔ تاہم مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی صدر نے براہِ راست طیاروں کو ڈی سرٹیفائی کیا ہو۔ یہ اختیار عموماً فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے پاس ہوتا ہے، جس نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ دوسری جانب کینیڈین طیارہ ساز کمپنی بمبارڈیئر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان سے آگاہ ہے اور اس معاملے پر کینیڈین حکومت سے رابطے میں ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں تیار ہونے والے طیارے امریکی فضائی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے ایوی ایشن ڈیٹا فرم سیرئم کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ میں اس وقت تقریباً پانچ ہزار چار سو کینیڈین ساختہ طیارے زیرِ استعمال ہیں، جن میں سے نصف کے قریب بمبارڈیئر کے تیار کردہ ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی تجویز پہلے سے استعمال میں موجود طیاروں پر لاگو نہیں ہوگی۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ کا بمبارڈیئر سے تنازع سامنے آیا ہو۔ سنہ دو ہزار سترہ میں ان کی انتظامیہ نے امریکی کمپنی بوئنگ کی شکایت کی حمایت کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بمبارڈیئر نے اپنے سیریز طیارے غیر منصفانہ طور پر کم قیمت پر فروخت کیے۔ اس وقت امریکی محکمہ تجارت نے تقریباً تین سو فیصد ٹیرف کی تجویز دی تھی، تاہم ایک سال بعد یہ کیس ختم ہوگیا جب امریکی انٹرنیشنل ٹریڈ کمیشن نے فیصلہ دیا کہ بوئنگ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کینیڈا کے خلاف یہ تازہ دھمکی صدر ٹرمپ اور اوٹاوا کے درمیان جاری کشیدگی کا حصہ ہے، جس میں کینیڈا کے چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں اور گرین لینڈ سے متعلق امریکی صدر کے متنازع بیانات بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تو اس پر سو فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا، جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ چین کینیڈا کو “مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے رہا ہے”۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ان بیانات کے جواب میں کہا ہے کہ اوٹاوا کا چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ سے کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔

Advertisement