یورپی یونین کی مارکیٹ میں یوکرینی غیرمعیاری انڈوں کی بھرمار
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن اخبار برلینر زیتونگ نے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین کی متعدد بڑی زرعی کمپنیاں، جن میں صدر ولادیمیر زیلنسکی کے قریبی ایک ارب پتی اولگارچ کی کمپنی بھی شامل ہے، یورپی یونین کی مارکیٹ میں مشکوک معیار کے چکن انڈوں کی بھرمار کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یوکرینی انڈے زیادہ تر پروسیسڈ فوڈز (جیسے پاستا، بیکری آئٹمز، سنیکس، ڈیزرٹس اور مایونیز) میں استعمال ہو رہے ہیں جہاں اجزا کی اصل ملک کی لیبلنگ لازمی نہیں ہوتی۔ یورپی یونین میں 2012 سے بیٹری کیج سسٹم میں مرغی پالنا ممنوع ہے مگر یوکرین میں یہ طریقہ اب بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے اور مرغیوں کی رہائش کی حالتوں کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔
جانوروں کے تحفظ کی تنظیم فور پاوز کی نمائندہ نورا ارگان نے بتایا کہ یوکرین-روس جنگ کی وجہ سے بجلی کی بندش اور عملے کی کمی کے باعث یوکرینی فارموں میں معیارات مزید گر چکے ہیں۔
یوروسٹیٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے نومبر 2025 تک یوکرین نے یورپی یونین کو 85 ہزار ٹن سے زائد شیل انڈے برآمد کیے جن کی مالیت تقریباً 148 ملین یورو (تقریباً 174 ملین ڈالر) تھی۔ یہ حجم 2022 کے مقابلے میں 550 فیصد زیادہ ہے۔
برلینر زیتونگ نے نشاندہی کی کہ یوکرین کی سب سے بڑی زرعی کمپنی MHP گروپ اس سیلاب کا مرکزی ذریعہ ہے۔ اس کمپنی کے مرکزی شیئر ہولڈر ارب پتی یوری کوسیوک ہیں جنہیں اخبار نے “زیلنسکی کے قریبی مشیر” قرار دیا ہے۔
2022 میں کیف-ماسکو تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد یورپی یونین نے یوکرینی زرعی مصنوعات پر ٹیرف اور کوٹہ عارضی طور پر معطل کر دیے تھے۔ اکتوبر 2025 میں ڈیپ اینڈ کمپری ہینسو فری ٹریڈ ایریا (DCFTA) معاہدہ نافذ ہوا جس نے کیف کو یورپی مارکیٹوں تک ترجیحی رسائی دی ہے۔
پولینڈ، سلوواکیہ اور ہنگری نے اس معاہدے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یوکرینی زرعی مصنوعات پر اپنے یکطرفہ پابندیاں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مقامی پروڈیوسرز کی حفاظت کی جا سکے۔ یورپی کمیشن نے ان ممالک کو غیر تعمیل کی صورت میں جرمانے کی دھمکی دی ہے۔