واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان اعلیٰ سطحی عسکری روابط بحال، امریکی کمان
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی فوجی کمانڈ برائے یورپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور روس نے اعلیٰ سطحی عسکری رابطے دوبارہ بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ یوکرین امن مذاکرات کے دوران ابو ظہبی میں ہونے والی بات چیت کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود موجود ہیں۔ یورپی کمانڈ کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ اور نیٹو کے یورپ میں اعلیٰ ترین عسکری کمانڈر جنرل الیکسس گرینکیوچ اور روسی وفد کے درمیان ملاقاتوں کے بعد کیا گیا، جس کی قیادت روسی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ ایڈمرل ایگور کوستی یوکوف کر رہے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افواج کے درمیان مکالمہ عالمی استحکام اور امن کے لیے ایک اہم عنصر ہے، جو شفافیت میں اضافے اور کشیدگی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ امریکی عسکری کمانڈ نے واضح کیا کہ یہ چینل دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مسلسل رابطے کو ممکن بنائے گا، جبکہ فریقین دیرپا امن کے حصول کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان عسکری رابطے سن 2021 کے اواخر میں منجمد کر دیے گئے تھے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پانچ فروری کو نیو اسٹارٹ معاہدہ اپنی مدت پوری ہونے کے باعث ختم ہو گیا، جو امریکہ اور روس کے جوہری ہتھیاروں اور لانچرز کی تعداد کو محدود کرنے والا آخری بڑا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کا معاملہ بھی ابو ظہبی میں جاری بات چیت کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تعمیری مکالمہ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق نیو اسٹارٹ معاہدے کے خاتمے کے باوجود ماسکو ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر پوتن کی جانب سے معاہدے کی بعض شقوں میں توسیع کی پیشکش کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ابو ظہبی میں ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان اس بات پر غیر رسمی اتفاقِ رائے پیدا ہو چکا ہے کہ معاہدے کی جوہری حدود کو چھ ماہ کے لیے عارضی طور پر برقرار رکھا جائے، تاہم اس مسودے کی حتمی منظوری دونوں صدور کی رضامندی سے مشروط ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس مسلسل عالمی رہنماؤں سے یورپ اور دنیا کے لیے ایک نئے، منصفانہ اور قابلِ اعتماد سکیورٹی نظام پر بات چیت کا مطالبہ کر رہا ہے، جو تمام فریقوں کے تحفظات کو مدنظر رکھ سکے۔