صومالیہ میں لاکھوں افراد خوراک کی شدید قلت کا شکار، اقوامِ متحدہ
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے World Food Programme نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ اس وقت بھوک کے سنگین بحران سے دوچار ہے، جہاں تقریباً 6.5 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق خشک سالی کی شدت میں خطرناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث خوراک اور پانی تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 کے دوران پانچ سال سے کم عمر 1.8 ملین سے زائد بچوں میں شدید غذائی قلت (Acute Malnutrition) متوقع ہے، جبکہ ان میں سے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کے شدید کم غذائیت (Severe Malnutrition) کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ صومالیہ کے لیے اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار جارج کانوے نے کہا کہ ملک میں خشک سالی کی ہنگامی صورتحال گہری ہو چکی ہے، پانی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، مویشی ہلاک ہو رہے ہیں اور امدادی فنڈنگ نہایت کم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری جان بچانے والی امداد ناگزیر ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ اپریل تا جون کے بارشوں کے موسم تک خاطر خواہ بارش کی توقع نہیں۔
World Food Programme کے مطابق طویل خشک سالی اور کمزور بارشوں نے غذائی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ جنوبی صومالیہ میں اکتوبر تا دسمبر کے دوران اناج کی پیداوار 1995 تا 2025 کے طویل مدتی اوسط سے 83 فیصد کم رہی، جبکہ ملک بھر میں مویشیوں کی افزائش معمول سے کہیں کم ریکارڈ کی گئی۔ خشک سالی کے باعث دیہی اور شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی دیکھی گئی ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق بھوک کے بحران سے متاثرہ تقریباً 6 ملین افراد ملک کی کل آبادی کا لگ بھگ 30 فیصد بنتے ہیں۔ صومالیہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے کمشنر محامود معلم عبداللہ نے صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری امدادی اقدامات تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور صومالی حکام نے بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ کمزور اور خطرے سے دوچار آبادی کو بچانے کے لیے امداد میں فوری اضافہ کیا جائے، تاکہ حالات مزید بگڑنے سے روکے جا سکیں۔ یاد رہے کہ صومالیہ ماضی میں بھی شدید خشک سالیوں کا سامنا کر چکا ہے، خصوصاً 2017 کی خشک سالی جس نے ملک کی نصف آبادی کو خوراک اور پانی کی قلت میں مبتلا کر دیا تھا۔