افغانستان میں فضائی کارروائیوں کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ

Pakistan Pakistan

افغانستان میں فضائی کارروائیوں کے بعد پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ

اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان نے افغانستان میں حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ بدھ کے روز جونیئر وزیرِ داخلہ طلال چوہدری نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔ ان کے مطابق شدت پسند گروہ عموماً اُس وقت ردِعمل دیتے ہیں جب ان کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں۔ حکام کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں افغانستان میں اہداف کو نشانہ بنایا، جنہیں سرکاری بیان میں حالیہ خودکش دھماکوں سے منسلک عسکریت پسندوں کے مراکز قرار دیا گیا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ بعض جنگجو افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔

سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے دوران منگل کو پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جہاں دونوں جانب سے جھڑپ شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا گیا۔ ادھر خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس گاڑی پر حملے میں اہلکاروں اور شہریوں کے جانی نقصان کی رپورٹس ملیں، جبکہ ایک چیک پوسٹ پر خودکش دھماکے میں بھی پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد سیکیورٹی اداروں نے سرچ اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں مشتبہ شدت پسند، ان کے مبینہ سہولت کار اور ہینڈلرز گرفتار کیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر حساس تنصیبات، شہری مراکز، بازاروں اور عبادت گاہوں کی حفاظت مزید بڑھا دی گئی ہے۔

عالمی نگرانی کرنے والے ادارے Armed Conflict Location & Event Data کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2022 کے بعد سے شدت پسند حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسوب کارروائیوں میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔