افغانستان کے خلاف پاکستان کا ’آپریشن غضب للحق‘ جاری، سرحدی جھڑپوں میں شدت
اسلام آباد (صداۓ روس)
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا ’آپریشن غضب للحق‘ جاری ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر افغان طالبان کی سرحدی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چترال سیکٹر میں ایک افغان چیک پوسٹ کو کارروائی میں تباہ کیا گیا، جبکہ باجوڑ، تیراہ (خیبر)، ضلع مہمند اور ارندو (چترال) کے علاقوں میں بھی فائرنگ اور جوابی کارروائیاں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلے کے بعد پاکستانی فورسز نے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا استعمال کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ باجوڑ میں دو سرحدی چوکیاں تباہ کی گئیں اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے مبینہ حملے کی کوشش کو ناکام بنا کر ڈرونز گرائے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں افغان طالبان کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب افغان حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کسی بھی جارحیت کے خلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ افغان طالبان سے منسلک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور غیر مصدقہ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ سرحدی صورتحال تاحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔