امریکا ایرانی حملوں کے ذریعے اپنے عوام کا دفاع کر رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

Trump Trump

امریکا ایرانی حملوں کے ذریعے اپنے عوام کا دفاع کر رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے ایران میں ’’بڑی جنگی کارروائیاں‘‘ شروع کر دی ہیں، جن کا مقصد مبینہ طور پر فوری خطرات کا خاتمہ اور امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری آٹھ منٹ کے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں امریکا، اس کی فوج، بیرونِ ملک اڈوں اور اتحادی ممالک کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ جوہری سفارتکاری کی ناکامی حالیہ حملوں کی بنیادی وجہ بنی۔ ان کے مطابق گزشتہ برس ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے دوران ایران کے فورڈو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے بعد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی کوششیں دوبارہ شروع نہ کرنے کی وارننگ دی گئی تھی، تاہم تہران نے اس پر عمل نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر کام جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی تیار کر رہا ہے، جو یورپ اور ممکنہ طور پر امریکی سرزمین تک خطرہ بن سکتے ہیں، اگرچہ بعض بین الاقوامی ذرائع نے اس دعوے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج ایرانی میزائل نظام کو تباہ کریں گی، میزائل صنعت کو ختم کریں گی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گی، تاہم انہوں نے امریکی جانی نقصان کے خدشے کا بھی اعتراف کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے ایرانی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزاحمت کی صورت میں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے بھی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔ دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کے جواب میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔