محرم الحرام کے احترام میں مذاکرات اور امن کی اپیل

ماسکو (اشتیاق ہمدانی) — محرم الحرام کی آمد کے پیشِ نظر مختلف سماجی، عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں امن، برداشت اور مذاکرات کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں چیف ایڈیٹر صدائے روس اشتیاق ہمدانی نے عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتِ پاکستان کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ محرم الحرام کے تقدس اور حرمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ماہ کے لیے کشیدگی میں کمی لانے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر غور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام مسلمانوں کے لیے صبر، قربانی، اتحاد اور امن کا پیغام لے کر آتا ہے، لہٰذا اس مقدس مہینے کے دوران تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں، دھرنوں اور موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، جس کا بہترین حل باہمی گفت و شنید اور افہام و تفہیم ہے۔

اشتیاق ہمدانی نے تجویز دی کہ محرم الحرام کے احترام میں ایک ماہ کے لیے دھرنوں، احتجاجی سرگرمیوں اور سخت گیر اقدامات کو مؤخر کرتے ہوئے مذاکرات کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا جائے تاکہ عوامی مسائل اور مطالبات کا قابلِ قبول اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے باوجود مسائل حل نہ ہوں تو عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس اپنے آئینی، قانونی اور جمہوری احتجاج کا حق بدستور محفوظ رہے گا، تاہم موجودہ حالات میں امن و استحکام کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام حسین علیہ سلام اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کا تقاضا ہے کہ معاشرے میں انصاف، برداشت، اتحاد اور مکالمے کی روایت کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومتی نمائندے اور تمام متعلقہ ادارے محرم الحرام کے تقدس کے پیشِ نظر اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور مسائل کے حل کے لیے مثبت پیش رفت کا راستہ اختیار کریں گے۔

“امن، برداشت اور مذاکرات ہی مسائل کا بہترین حل ہیں۔”