ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
بوسنیا و ہرزیگووینا کے سرب اکثریتی حصے ریپبلکا سرپسکا کی حکمران جماعت *اتحادِ آزاد سوشل ڈیموکریٹس* کے سربراہ اور ممتاز سیاسی رہنما Milorad Dodik نے کہا ہے کہ یورپی ممالک بوسنیا و ہرزیگووینا پر روسی شہریوں کے لیے ویزا نظام نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم وہ اس فیصلے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میلوراد ڈوڈک نے کہا کہ جس طرح انہوں نے ماضی میں روس کے خلاف باضابطہ پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا تھا، اسی طرح روسی شہریوں پر ویزا پابندی کے منصوبے کو بھی روک دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بوسنیا و ہرزیگووینا میں سرب آبادی اور اس کے نمائندوں کی رضامندی کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔ ڈوڈک نے کہا کہ ان کی جماعت کے اراکین کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس کے تحت روسی شہریوں کے لیے ویزا لازمی قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اگر سرب نمائندے اس تجویز کے حق میں ووٹ نہیں دیتے تو روسی شہریوں پر ویزا نظام نافذ نہیں کیا جا سکتا، چاہے اس کے لیے کئی برسوں سے کوششیں ہی کیوں نہ کی جا رہی ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دباؤ صرف روس تک محدود نہیں بلکہ یورپی حلقے چینی شہریوں سمیت دیگر ممالک کے باشندوں کے لیے بھی ویزا پابندیاں متعارف کرانے کے خواہاں ہیں۔ ڈوڈک کے مطابق ایسا اقدام درحقیقت بوسنیا و ہرزیگووینا کو تنہائی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔
ریپبلکا سرپسکا کے رہنما نے سوال اٹھایا کہ اگر یورپی یونین آزادی اور حقوق کی علمبردار ہے تو پھر بوسنیا و ہرزیگووینا کو روس اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریپبلکا سرپسکا کسی بھی صورت روسی شہریوں پر ویزا پابندی عائد کرنے کی حمایت نہیں کرے گی، خواہ اس کے نتیجے میں سیاسی یا سفارتی دباؤ کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے.