اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس اور کالعدم قرار دی گئی احتجاجی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکومت مخالف تحریک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، جو اقتصادی اور حکومتی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے، گزشتہ ہفتے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود اپنے احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ابتدائی طور پر حکام نے پیر کے روز سات ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی جن میں تین شہری اور چار پولیس اہلکار شامل تھے، تاہم جمعے کو جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ تعلیم ملک ظفر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ضلع کوٹلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں سات افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید کے مطابق راولاکوٹ میں مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
میرپور کے ایک سینئر پولیس افسر خرم اقبال نے تصدیق کی کہ بدھ کے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے دوران ایک مظاہر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ادھر مظفرآباد میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کے بعد شہر کی متعدد دکانیں بند رہیں جبکہ کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی شدید متاثر رہی۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو “جبر” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تحریک کا مقصد عوام کے جائز معاشی اور سیاسی حقوق کا حصول ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھی اسی نوعیت کے احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ یہ خطہ تقسیمِ ہند کے بعد سے دونوں ممالک کے زیرِ انتظام مختلف حصوں میں منقسم ہے۔ خطے کی حساس جغرافیائی اور سیاسی حیثیت کے باعث یہاں کی صورتحال کو دونوں ممالک کی حکومتیں اور سیکیورٹی ادارے انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔