ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون.
عالمِ اسلام کی ایک نمایاں مذہبی و سیاسی شخصیت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مبینہ طور پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے کی اطلاعات نے دنیا بھر میں کہرام مچا دیا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق 86 سالہ رہنما ایک حملے میں نشانہ بنے، جس کے بعد ان کی شہادت کی خبر نے کروڑوں دلوں کو سوگوار کر دیا۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای (Ali Khamenei) ایران کی ایک اہم مذہبی و سیاسی شخصیت تھے۔ وہ 1989ء سے ایران کے سپریم لیڈر (رہبرِ انقلاب) کے عہدے پر فائز تھے اور ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی و مذہبی منصب پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے۔ انہیں 1979ء کے ایرانی انقلاب میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایرانی نظامِ حکومت میں سپریم لیڈر کو مسلح افواج، عدلیہ اور اہم ریاستی اداروں پر بالادست اختیار حاصل ہوتا ہے، جس کے باعث ان کا کردار ملکی و بین الاقوامی سیاست میں نہایت اہم سمجھا جاتا تھا۔
سید علی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی عمر ہی سے دینی تعلیم حاصل کی اور مذہبی و سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی زندگی جدوجہد، نظریاتی وابستگی اور سیاسی بصیرت سے عبارت رہی۔
شہادت کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے سخت مؤقف کے باعث نشانہ بنایا گیا۔ مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے تعلقات میں کشیدگی اس واقعے کا پس منظر بن سکتے ہیں۔
شہادت کی خبر سامنے آتے ہی مختلف مسلم ممالک اور تنظیموں کی جانب سے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا ہے۔ کئی حلقوں نے اس واقعے کو خطے کے امن کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے پہلے ہی کشیدہ علاقائی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا یقیناً خطے کی سیاست اور مذہبی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔