ایران پر حملوں کے دوران روس کا تہران سے مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کا اعلان
ماسکو (صداۓ روس)
روس نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ماسکو ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور صورتحال پر قریبی مشاورت جاری ہے۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ روسی قیادت ایران کے حکام سے مستقل رابطے میں ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کو انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک عبوری قیادت قائم کر دی گئی ہے جس میں آیت اللہ علی رضا اعرافی بھی شامل ہیں۔
دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ روس خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ کریملن کے ترجمان نے عمان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے تعطل پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کی اطلاعات کے باوجود صورتحال دوبارہ عسکری تصادم تک پہنچ گئی ہے، جو تشویش ناک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس امریکا کی جانب سے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں دلچسپی رکھتا ہے اور مذاکراتی عمل کے لیے کھلا رہے گا۔ پیسکوف کے مطابق ماسکو سفارتی راستے کو ہی تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ اگر مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے سے متعلق اختلافات برقرار رہے تو امریکا کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے۔