امریکہ میں پیدائشی شہریت قانون سخت، پاکستانی اور غیر ملکی والدین کے بچوں پر اثر

Pakistani Couple Pakistani Couple

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکہ میں پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کے طویل عرصے سے نافذ قانون میں بڑی تبدیلی لانے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ نئے قانون کے تحت پاکستانی اور دیگر غیر ملکی والدین کے بچوں کو امریکہ کی سرزمین پر پیدائش کے باوجود خود بخود شہریت نہیں ملے گی۔
امریکی سینیٹر نے 14ویں ترمیم کی موجودہ تشریح کو غلط قرار دیتے ہوئے آئینی ترمیم پیش کی ہے جس کا مقصد امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار شہریت دینے کا سلسلہ ختم کرنا ہے۔
موجودہ نظام کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والا بچہ والدین کی امیگریشن حیثیت سے قطع نظر امریکی شہری قرار دیا جاتا ہے۔ سینیٹر کا کہنا ہے کہ یہ شق غیر قانونی امیگریشن کے کیسز کو کور کرنے کے لیے کبھی نہیں بنائی گئی تھی اور کھلی سرحدوں کی وجہ سے اس نظام کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی امیگریشن کو تحفظ دیا جائے گا، لیکن شہریت کے قوانین کو سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر نافذ اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر نے بتایا کہ وہ 2011 سے ہی پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کی نئی تجویز آئینی ترمیم کی شکل میں ہے تاکہ سپریم کورٹ کی کوئی بھی تشریح اس قانون کو تبدیل نہ کر سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکہ میں امیگریشن کے حوالے سے بڑا سیاسی اور قانونی بحث دوبارہ چھڑا دے گا، جس کا اثر پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے جہاں سے امریکہ میں ٹیلنٹ جاتا ہے۔