بھارت اورافغانستان نے ہماری فوجی صلاحیتوں کا صرف ایک حصہ دیکھا، پاکستان
اسلام آباد (صداۓ روس)
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ نئی دہلی اور کابل نے اب تک اسلام آباد کی فوجی صلاحیتوں کا صرف ایک حصہ دیکھا ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں صدر زرداری کا کہنا تھا کہ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہوتی ہے اور وہ علاقائی امن کے تاحیات حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست اپنی سرزمین پر مسلسل حملے برداشت نہیں کر سکتی۔ ان کے بقول پاکستان نے بھارت اور افغانستان دونوں کو اپنی صلاحیتوں کا صرف ایک جزوی مظاہرہ دکھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مئی میں بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ایک دہشت گرد حملے میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ فوجی محاذ آرائی ہوئی۔ اکتوبر 2025 سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے ہوتے رہے ہیں۔
جمعہ کی صبح پاکستان نے اپنے مغربی ہمسایہ ملک پر شدید گولہ باری اور فضائی حملے کیے۔ یہ کارروائی ایک روز قبل افغان طالبان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کی گئی۔ پاکستان نے حالیہ جھڑپوں میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار کشیدگی کے دوران افغانستان کو ایک ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ صدر زرداری نے کہا کہ یہ صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ بحرانی حالات میں قومی عزم کا اظہار تھا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی غلط فہمی میں نہ رہا جائے کیونکہ پاکستان ہر طرح سے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی کا واحد راستہ بامعنی مذاکرات ہیں اور بھارت کو سنجیدگی سے پاکستان کا مؤقف سننا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مؤقف کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان سابق ریاست جموں و کشمیر پر مکمل دعویٰ رکھتا ہے اور اس کے تقریباً 30 فیصد حصے کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے، جبکہ تقریباً 55 فیصد علاقہ بھارت کے زیرِ انتظام ہے اور باقی حصہ چین کے کنٹرول میں ہے۔