امریکا کا اسپین سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان

Trump Trump

امریکا کا اسپین سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات معطل کر دے گا۔ یہ اعلان اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں میڈرڈ نے امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنی مشترکہ فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب ہسپانوی وزیر اعظم Pedro Sanchez نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کو “غیر منصفانہ اور خطرناک” قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارت ختم کر دے گا اور وہ بحیرہ روم کے اس ملک کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ تجارتی پابندی کب سے نافذ العمل ہوگی۔ اس سے قبل پیر کے روز اسپین کے وزیر خارجہ Jose Manuel Albares نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت امریکا کو نیول اسٹیشن روٹا اور مورون ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ یہ دونوں اڈے ہسپانوی اور امریکی افواج کے مشترکہ استعمال میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اڈوں کو ایران پر ہفتے کے روز کیے گئے ابتدائی حملوں میں استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی جاری تنازع کے دوران استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپین نے اڈوں کے استعمال سے انکار کیا ہے، لیکن اگر امریکا چاہے تو ان اڈوں کو استعمال کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا ان اڈوں پر جا کر کارروائی کر سکتا ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔

یہ دونوں فوجی اڈے 2001 میں افغانستان اور 2003 میں عراق پر امریکی حملوں کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کیے گئے تھے۔ مورون ایئر بیس 2011 میں لیبیا پر نیٹو کی بمباری کے دوران ری فیولنگ طیاروں کا مرکزی اڈہ رہا تھا۔ اسپین کی جانب سے پابندی کے اعلان کے بعد پیر کو ایک درجن سے زائد ٹینکر طیارے روٹا اور مورون سے روانہ ہوئے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع نے امریکا کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ پیڈرو سانچیز یورپی یونین کے وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے ایران پر امریکی حملوں کی کھل کر مذمت کی اور “آپریشن ایپک فیوری” کو بین الاقوامی قانون سے متصادم قرار دیا۔ دوسری جانب برطانیہ نے ابتدا میں اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا، تاہم بعد ازاں وزیراعظم Keir Starmer نے اتوار کے روز مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ایران کے میزائل ڈھانچے کے خلاف “محدود دفاعی” کارروائیوں کے لیے اجازت دے دی۔ فرانس اور جرمنی نے بھی ایران کے خلاف ضروری اور متناسب دفاعی اقدامات کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ امریکا کے حامی یورپی ممالک میں لتھوانیا ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے، جہاں صدارتی مشیر آستا اسکائسنگیریٹے نے اعلان کیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ درخواست کریں تو ان کا ملک بھی اس کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے۔