آذربائیجان کے نخچیوان ایئرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، دو شہری زخمی
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
آذربائیجان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملے میں ملک کے نخچیوان بین الاقوامی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم دو شہری زخمی ہوگئے۔ آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات 5 مارچ 2026 کو پیش آیا۔ بیان کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے ڈرونز میں سے ایک نے ایئرپورٹ کے مسافر ٹرمینل کی عمارت کو نشانہ بنایا، جبکہ ایک اور ڈرون شکرآباد نامی گاؤں کے ایک اسکول کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور دو شہری زخمی ہوئے۔ نخچیوان میں واقع یہ ایئرپورٹ ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین سے کیے گئے ان ڈرون حملوں کے باعث ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک ڈرون کو ایئرپورٹ کی جانب پرواز کرتے اور مسافر ٹرمینل سے ٹکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے چھٹے دن میں داخل ہو چکی ہے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب جمعرات 5 مارچ کی صبح ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے پر امریکہ کو اس کا “تلخ پچھتاوا” ہوگا۔ اسرائیل کی جانب سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے تہران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی بحریہ نے منگل 3 مارچ کی شب بحرِ ہند میں ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو ڈبو دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 87 ایرانی ملاح ہلاک ہوئے تھے جسے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات 5 مارچ کو “سمندر میں ایک سنگین ظلم” قرار دیا۔