ایران جنگ: روس میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نہیں ہوگا، کریملن
ماسکو (صداۓ روس)
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیاں اور بین الاقوامی تیل مارکیٹ کی صورتحال روس میں ایندھن کی قیمتوں میں کسی قسم کے اتار چڑھاؤ کا سبب نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ روسی حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دمتری پیسکوف نے کہا کہ ایران میں جاری جنگ سے متعلق بین الاقوامی ماحول روس کے اندر پیٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی بننا چاہیے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ روسی حکومت اور فیڈرل اینٹی مونوپولی سروس ملک میں ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ تبدیلی کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کے دوران تہران سمیت ایران کے کئی بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ وائٹ ہاؤس نے اس حملے کا جواز ایران کی جانب سے مبینہ میزائل اور جوہری خطرات کو قرار دیا تھا۔ اسی دوران امریکی قیادت نے ایرانی عوام سے کھلے عام مطالبہ بھی کیا کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اقتدار سنبھال لیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اسلامی جمہوریہ کی قیادت کے کئی دیگر اعلیٰ شخصیات ہلاک ہو گئیں۔ اس کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا اور اسرائیل میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ بحرین، اردن، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے گئے۔