ماریا زاخارووا نے اقوامِ متحدہ میں روسی انسدادِ نازی قرارداد کی حمایت پر پاکستان کے کردار کو سراہا

Ishtiaq Hamdani Ishtiaq Hamdani

ماسکو (صداۓ روس)

ماسکو: عظیم محبِ وطن جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستانی روسی پورٹل “صدائے روس” کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی نے روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا سے تاریخی یادداشت کے تحفظ اور دوسری جنگِ عظیم میں فتح حاصل کرنے والی ریاست کے طور پر روس کے مؤقف سے متعلق باضابطہ سوال کیا۔

اشتیاق ہمدانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “صدائے روس” کی ادارتی ٹیم پورا سال عظیم محبِ وطن جنگ اور دوسری جنگِ عظیم سے متعلق رپورٹس، تراجم اور خصوصی مواد تیار کرکے پاکستان اور دیگر ممالک میں اپنی عوام تک پہنچاتی ہے۔

اسی تناظر میں انہوں نے سوال کیا کہ روس اس وقت عظیم محبِ وطن جنگ کی یادداشت کو محفوظ رکھنے کے لیے کن بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہے، اور موجودہ عالمی کشیدگی کے ماحول میں روس خود کو دوسری جنگِ عظیم میں کامیابی حاصل کرنے والی ریاست کے طور پر کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ تاریخی یادداشت کا تحفظ روسی پالیسی کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تاریخی یادداشت کو محفوظ نہ رکھا جائے تو دنیا میں قانون، انصاف، انسانی حقوق، امن اور روایتی اخلاقی اقدار کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

ماریا زاخارووا نے کہا:

“اگر انسانیت دوسری جنگِ عظیم کے تلخ تجربات، نازی ازم، فاشزم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو فراموش کر دے گی تو پھر دنیا کو امن، انسانی حقوق اور انصاف کی ضرورت کے بارے میں قائل کرنا مشکل ہو جائے گا۔”

انہوں نے نازی جرمنی اور جاپانی عسکریت پسندی کے دوران ہونے والے ہولناک جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گیس چیمبرز، نسلی امتیاز، نسل کشی اور لاکھوں انسانوں کا قتلِ عام انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شامل ہیں۔

روسی ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کی یادداشت کو زندہ رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ دنیا دوبارہ ایسی تباہی کا شکار نہ ہو۔

ماریا زاخارووا کے مطابق روس، بطور فاتح ریاست اور سوویت یونین کے جانشین ملک، جنگ کے بعد عالمی نظام کی تشکیل میں براہِ راست شریک رہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے قیام، نیورمبرگ اور ٹوکیو ٹربیونلز، اور جدید بین الاقوامی قانونی نظام کے قیام کو اس تاریخی کردار کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سوویت یونین نے دوسری جنگِ عظیم میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں نصف سے زیادہ عام شہری تھے۔

ماریا زاخارووا نے اس موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے کردار کا بھی خصوصی ذکر کیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس 15 دسمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک مرتبہ پھر روس کی جانب سے پیش کردہ “نازی ازم کی ترویج کے خلاف قرارداد” منظور کی تھی، اور اس قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔

ماریا زاخارووا نے کہا:

“اس قرارداد کی حمایت عالمی اکثریت نے کی، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔”

انہوں نے بعض مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ریاستیں نازی ازم کی مذمت سے گریز کرتی ہیں جبکہ یورپ کے مختلف حصوں میں تاریخ کو مسخ کرنے، سوویت فوجیوں کی یادگاریں گرانے اور نو نازی نظریات کو فروغ دینے کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روس کو یقین ہے کہ پاکستان اور گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک میں نئی نسل دوسری جنگِ عظیم کی اصل تاریخ اور حقائق کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھے گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نازی ازم کے خلاف جدوجہد، تاریخی حقیقت کے تحفظ اور دنیا کو نفرت و انتہاپسندی سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

آخر میں ماریا زاخارووا نے کہا کہ تاریخی حقیقت کے تحفظ، نازی ازم کے خلاف جدوجہد اور دنیا کو نفرت و انتہاپسندی سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی یادداشت کے تحفظ سے متعلق روسی پالیسی کے بنیادی اصول 2022 میں منظور کی گئی روس کی بین الاقوامی انسانی پالیسی کے تصور میں واضح طور پر درج ہیں۔