ماسکو (صدائے روس)
روس کے دارالحکومت ماسکو میں ایران میں حالیہ واقعات کے بعد تعزیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ماسکو میں ایرانی سفیر کی رہائش گاہ پر اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر شہداء کی یاد میں تعزیتی کتاب کھولی گئی، جہاں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، حکام اور نمائندوں نے شرکت کر کے ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کیا۔
اس موقع پر روس میں تعینات پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی ایرانی سفیر کاظم جلالی سے ملاقات کی اور تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔ انہوں نے ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں ایرانی قوم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے روس میں تعینات ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا کہ پاکستان ایران کا برادر، دوست اور ہمسایہ ملک ہے جس نے ہمیشہ ایران کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں روس بھی سیاسی تعاون کے میدان میں ایران کی مکمل حمایت کر رہا ہے جبکہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی رابطے اور تعاون کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔
کاظم جلالی نے پاکستانی صحافی اور صدائے روس کے چیف ایڈیٹر اشتیاق ہمدانی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف موجودہ حالات میں دفاعی جدوجہد آسان نہیں، تاہم ایران اپنے اتحادی اور دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر سفارتی اور سیاسی مشاورت جاری ہے۔
دوسری جانب ماسکو میں ایران کے سفارت خانے کے باہر شہریوں کی جانب سے ایک غیر رسمی تعزیتی یادگاری مقام بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ پہنچ کر ایران میں حالیہ واقعات کے متاثرین کے لیے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ شہری سفارت خانے کے مرکزی دروازے کے قریب پھول، موم بتیاں اور کھلونے رکھ کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
ماسکو میں موجود ہمارے نمائندے اشتیاق ہمدانی کے مطابق ایران میں حالیہ واقعات کے بعد روسی شہریوں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد ایرانی سفارت خانے کے باہر جمع ہو رہی ہے۔ لوگ رک کر متاثرین کے لیے دعا کرتے ہیں اور ایرانی عوام کے ساتھ رنج اور دکھ کی اس گھڑی میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مقام ایک غیر رسمی تعزیتی یادگاری جگہ کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں لوگ پھولوں کے گلدستے، موم بتیاں اور دیگر اشیاء رکھ کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ کئی افراد نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے تحریری تعزیتی پیغامات بھی چھوڑے ہیں۔
ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے وہاں موجود شہریوں نے ایران کے عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بعض افراد نے امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ماضی میں بھی مختلف ممالک کو جنگ اور تباہی کا سامنا کروایا ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی یہ کوشش ایران میں کامیاب نہیں ہوگی اور ایرانی عوام اس مشکل وقت میں ہمت اور استقلال کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس آزمائش کے دور میں ثابت قدم رہیں اور خطے میں جلد امن اور استحکام بحال ہو۔
اس موقع پر ایرانی سفارت خانے کی عمارت پر قومی پرچم بھی سوگ کے اظہار کے طور پر سرنگوں کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کے اظہار کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
مبصرین کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں بڑے سانحات یا جنگی حالات کے بعد سفارت خانوں کے باہر اس طرح کے عوامی یادگاری مقامات قائم ہونا ایک عام روایت ہے، جہاں لوگ متاثرین اور متعلقہ ملک کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ماسکو میں بھی شہریوں کی جانب سے اسی طرح کے جذبات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔