ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی اور حالیہ فوجی تصادم کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس سوال پر بحث جاری ہے کہ آیا واشنگٹن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں۔ متعدد سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے پانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم یہ کسی حتمی اور جامع امن معاہدے کے بجائے مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو بھی جاتے ہیں تو اس سے صرف مذاکراتی عمل کا آغاز ہوگا، جبکہ اصل چیلنج ایک ایسے مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں دیرپا استحکام پیدا کر سکے۔ ان کے مطابق حالیہ بحران نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس تنازع کے باعث عالمی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تیل، قدرتی گیس اور دیگر اہم اشیاء کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، جبکہ کئی ممالک کی اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے اور توانائی کی سپلائی دوبارہ شروع ہونے سے عالمی منڈیوں میں کچھ اطمینان پیدا ہوا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری گہری دشمنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت ایران کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتی ہے، جس کے باعث مستقبل میں کسی بھی امن عمل کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہ سکتا ہے۔
امریکی داخلی سیاست کو بھی اس معاملے میں اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی بڑے معاہدے کو امریکی سیاسی حلقوں، خصوصاً کانگریس میں سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ بحران کے نتیجے میں ایران کی سیاسی قیادت اور ریاستی ادارے پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحد ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، لیکن تنازع کے بعد ایران کی علاقائی اور داخلی پوزیشن کمزور ہونے کے بجائے بعض پہلوؤں سے مزید مستحکم دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مجوزہ مفاہمتی عمل کی کامیابی یا ناکامی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا خطہ واقعی امن کی جانب بڑھ رہا ہے یا کشیدگی کا ایک نیا دور جنم لینے والا ہے۔