آسام میں دہائیوں کا بدترین سیلاب، 80 ہلاک اور لاکھوں افراد متاثر

Flood in India Flood in India

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام دہائیوں کی بدترین سیلاب کی لپیٹ میں ہے جس میں کم از کم 80 افراد ہلاک، لاکھوں ہیکٹر رقبہ زیر آب اور ہزاروں افراد پھنس گئے یا بے گھر ہو گئے ہیں۔ آسام میں ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب آتا ہے، تاہم اس سال یہ خاص طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ یہ سیلاب جون کے آخر میں شروع ہوا اور گزشتہ ہفتے برہم پترا دریا میں شدید بارش کے باعث طغیانی کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق چارائیڈیو، گولگھاٹ، جورہاٹ اور شیو ساگر کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں 212,400 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک خاتون کا کہنا ہے کہ ان کا گھر 10 منٹ میں تباہ ہو گیا اور ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی۔ بہت سے مقامات پر پانی کم ہونے کے باوجود لوگ اپنے گھروں میں نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ گھٹنوں بھر کیچڑ سے بھرے ہیں۔

ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ ان کے تمام چاول کے کھیت اور مویشی بہہ گئے جو ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھے۔ حکام کے مطابق 437 دیہات اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور 17,198 ہیکٹر فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ بھارت کو جولائی میں اوسط سے 1 فیصد زیادہ بارش ہوئی، جبکہ آسام کے وزیراعلیٰ کے مطابق ریاست کے کچھ اضلاع میں جولائی میں معمول سے 500 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ ریاستی انتظامیہ نے چار اضلاع میں 112 ریلیف کیمپ اور تقسیم مراکز قائم کیے ہیں، جہاں 75,583 متاثرین کو پناہ فراہم کی گئی ہے۔