ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ببر شیر اور ٹائیگر کے درمیان مقابلے میں کون جیتے گا، یہ قدرتی تاریخ کی قدیم ترین بحثوں میں سے ایک ہے۔ دہائیوں سے سائنسدانوں کا زیادہ تر رجحان ٹائیگر کی طرف رہا ہے، کیونکہ بڑے بنگال اور سائبیرین ٹائیگر افریقی ببر شیر سے زیادہ وزنی ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان میں پٹھوں کی کثافت، دھماکہ خیز چھلانگ اور ہڈیاں توڑنے کی زبردست طاقت ہوتی ہے۔ تاہم صرف وزن اور طاقت کا موازنہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ نر ببر شیر پیدائش سے ہی مسلسل جنگ کی زندگی گزارتا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد نر ببر شیروں کو دوسرے حریف ببر شیروں سے علاقے اور غول کی حفاظت کے لیے لڑنا پڑتا ہے، جس میں وہ اکثر دو یا تین مخالفین کا بیک وقت مقابلہ کرتے ہیں۔ اس مسلسل جنگی زندگی نے ان میں بے مثال جارحیت، جنگی حکمت عملی اور درد برداشت کرنے کی اعلیٰ صلاحیت پیدا کی ہے۔ ببر شیر کی گردن اور سینے کے گھنے بال صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ یہ جھرجھری دوسرے شکاریوں کے پنجوں اور دانتوں سے حفاظت کے لیے ایک قدرتی زرہ کا کام کرتی ہے۔ اس کے برعکس ٹائیگر طویل جنگ کا عادی نہیں اور زخمی ہونے سے گریز کرتا ہے کیونکہ اسے تنہا شکار کرنا ہوتا ہے۔
مورخین کے مطابق رومن کولوزیئم میں ان دونوں کے درمیان مقابلے ریکارڈ کیے گئے ہیں جہاں دونوں طرف سے فتوحات ہوئیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ صرف اعداد و شمار سے طے نہیں ہوتا۔ ایک تجربہ کار نر ببر شیر جو متعدد حملہ آوروں کے خلاف لڑنے کا عادی ہے، اپنی جنگی صلاحیتوں اور برداشت کی بدولت بڑے ٹائیگر پر بھی غالب آ سکتا ہے.