ماسکو (صداۓ روس)
روسی وزارت خارجہ کے سفیر برائے خصوصی ہدایات رودین میروشنک نے کہا ہے کہ یوکرینی مسلح افواج کی جانب سے بچوں کو نشانہ بنانا سنگین جنگی جرم ہے۔
29 ستمبر کو ریانووستی سے گفتگو کرتے ہوئے میروشنک نے کہا کہ بچوں کو نشانہ بنانا محض انتہائی بے حسی نہیں بلکہ ایک سنگین جنگی جرم ہے۔ ان کے مطابق ڈرون حملوں میں بچے بھی نشانہ بن رہے ہیں اور بعض واقعات میں بچے ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔روسی سفارت کار نے دعویٰ کیا کہ اگست 2026 میں یوکرینی مسلح افواج کے حملوں کے نتیجے میں روس میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد جولائی کے مقابلے میں دوگنا ہوگئی۔ انہوں نے بعض واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سائیکل پر سوار ایک بچی اور ایک کنڈرگارٹن کے احاطے میں موجود بچہ بھی حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ ڈرون کے کیمروں سے بچوں کی موجودگی واضح طور پر دیکھی جاسکتی تھی۔
میروشنک نے 23 ستمبر کو بھی دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی مسلح افواج نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روس کے مختلف علاقوں میں تقریباً 9 ہزار حملے کیے۔ ان کے مطابق حملوں کی شدت مئی سے بڑھ رہی تھی اور اگست میں اپنے عروج پر پہنچ گئی، جبکہ بعض حملے روسی ریاستی دوما کے انتخابات کے دوران بھی ہوئے۔
روسی انسانی حقوق کی محتسب یانا لانتراتوا نے 20 ستمبر کو بتایا تھا کہ ان کا دفتر انتخابات کے دنوں میں یوکرینی مسلح افواج کے حملوں سے متعلق معلومات جمع اور ریکارڈ کر رہا ہے۔ میروشنک نے 15 ستمبر کو کہا تھا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران روس کے مختلف علاقوں میں یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں 48 شہری ہلاک ہوئے، جن میں تین بچے شامل تھے، جبکہ 336 افراد زخمی ہوئے جن میں 16 نابالغ بھی شامل تھے۔