ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے باقاعدگی سے تجویز کردہ ادویات استعمال کرنے کے ساتھ روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات اپنانا بھی ضروری ہے۔ ماہر قلب اولیگ رودومانوف نے 29 ستمبر کو ازویستیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصروف معمولات کے باوجود بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے چند اہم اصول بیان کیے۔
رودومانوف نے کہا کہ روزانہ بلڈ پریشر کی ادویات کا باقاعدگی سے استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس کے ساتھ صحت مند عادات کو بھی معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلیاں اس انداز سے کی جائیں کہ وہ اضافی بوجھ محسوس نہ ہوں بلکہ بتدریج روزمرہ معمول کا حصہ بن جائیں۔
ماہر قلب کے مطابق بلند فشار خون ایک دائمی بیماری ہے جس میں طرز زندگی میں مناسب تبدیلیاں ضروری ہوتی ہیں۔ انہوں نے جسمانی سرگرمی کو بیماری کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورزش کا آغاز لازماً سخت یا انتہائی مشقت والی سرگرمیوں سے کرنے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے روزانہ زیادہ پیدل چلنے، پالتو جانوروں کے ساتھ طویل چہل قدمی کرنے، کام کے بعد یا وقفے کے دوران پارک میں ٹہلنے اور موسم سازگار ہونے پر سائیکل چلانے کو مفید قرار دیا۔ تاہم ان کے مطابق جسمانی سرگرمی کی شدت ہر فرد کی صحت اور معالج کی ہدایات کے مطابق ہونی چاہیے۔
رودومانوف نے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو تمباکو نوشی اور ضرورت سے زیادہ شراب نوشی ترک کرنے، صحت مند وزن برقرار رکھنے اور متوازن غذا اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ڈی اے ایس ایچ غذائی طریقہ اپنانے پر بھی زور دیا، جس میں زیادہ نمک، فاسٹ فوڈ، چینی اور تیار شدہ گوشت کے استعمال میں کمی جبکہ ثابت اناج، مچھلی، مرغی، دالوں اور پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیشیم سے بھرپور غذاؤں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
ماہر قلب نے ادویات کے باقاعدہ استعمال کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ خوراک بھولنے سے بچنے کے لیے دوا روزانہ ایک ہی وقت پر لینا مفید ہے، مثلاً ناشتے سے پہلے۔ انہوں نے ہفتہ وار ادویات رکھنے والے ڈبے کے استعمال، اسے نمایاں جگہ پر رکھنے اور موبائل فون پر یاددہانی لگانے کی بھی تجویز دی۔
ان کے مطابق بعض مریضوں کے لیے ڈاکٹر ایسی ادویات تجویز کرسکتے ہیں جن میں ایک ہی گولی میں کئی فعال اجزا شامل ہوں۔ اس سے علاج کا طریقہ آسان ہوسکتا ہے اور ادویات باقاعدگی سے لینے میں مدد مل سکتی ہے۔
رودومانوف نے کہا کہ بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھنے کے لیے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے لینا، طرز زندگی میں بتدریج مثبت تبدیلیاں لانا اور صحت پر توجہ دینا ہائی بلڈ پریشر کی پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے اور معیار زندگی برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
23 ستمبر کو فیملی میڈیسن کی ماہر جلیان فوگلسون اسٹیبل نے بھی دل کی صحت کے لیے ضروری جسمانی سرگرمی کے بارے میں بتایا تھا۔ ان سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے پیدل چلنا، دوڑنا، تیراکی اور سائیکل چلانا شامل ہیں۔ امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن اور عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات کے مطابق بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی شدت کی یا 75 منٹ زیادہ شدت کی جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے، جسے مختلف اقسام کی ورزشوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔