ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ سال یوکرین کے ساتھ ہونے والے معدنیات کے معاہدے کے تحت امریکا یوکرین کے نایاب معدنیات سے “جو چاہے لے سکتا ہے” اور اس معاہدے سے ہونے والا منافع 2022 کے بعد یوکرین کو دی گئی کل امریکی امداد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یوکرین کو 300 ارب ڈالر کی فوجی امداد بغیر کسی واپسی کی ضمانت کے دے دی۔ انہوں نے کہا کہ بائیڈن یورپ سے اس امداد کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے پاس نایاب معدنیات کی بہت زرخیز زمین ہے اور انہوں نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ کسی بھی وقت وہاں جا کر جو چاہے لے سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ اپریل 2025 میں واشنگٹن میں طے پایا تھا جس نے امریکا یوکرین تعمیر نو سرمایہ کاری فنڈ قائم کیا۔ اس معاہدے کے تحت امریکا کو یوکرین کے معدنی، تیل اور گیس کے نئے منصوبوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے، جس میں لیتھیم، ٹائٹینیم، گریفائٹ اور یورینیم جیسے عناصر شامل ہیں۔