پوتن اور ٹرمپ میں ٹیلی فونک رابطہ، ایران جنگ اور یوکرین تنازع پر گہری بات چیت
ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کال امریکی صدر کی جانب سے شروع کی گئی تھی اور اس میں بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کا مرکزی موضوع ایران میں جاری تنازع اور ماسکو، واشنگٹن اور کیئف کے درمیان یوکرین بحران کے حل کے لیے جاری ثالثی بات چیت رہا۔ اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں کی گفتگو “کاروباری، کھلی اور تعمیری” رہی اور دونوں نے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ کال تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ امریکی صدر نے ماسکو اور کیئف کے درمیان لڑائی ختم کرنے اور یوکرین تنازع کے طویل مدتی حل کی خواہش کا اعادہ کیا۔ پوتن نے ٹرمپ انتظامیہ کی مسلسل ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
صدر پوتن نے ایران میں جاری تنازع پر اپنے خیالات شیئر کیے اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گزشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بتائیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی صورتحال پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اوشاکوف نے اسے “بہت گہری اور معنی خیز” گفتگو قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے بعد میں پریس کانفرنس میں اس کال کو “بہت اچھی کال” قرار دیا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران جنگ اور یوکرین میں “کبھی ختم نہ ہونے والی لڑائی” پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری ٹیلی فونک رابطہ دسمبر میں ہوا تھا جسے وائٹ ہاؤس نے “مثبت” قرار دیا تھا۔ اس سے قبل پیر کو صدر پوتن نے خبردار کیا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کو شدید متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی عملاً بندش کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع خلیجی تیل کی پیداوار روک سکتا ہے اور “نئی قیمتوں کی حقیقت” پیدا کر سکتا ہے۔ پوتن نے زور دیا کہ ماسکو قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ ہے اور اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو تیل اور گیس کی فراہمی جاری رکھے گا۔ ماسکو نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف بمباری مہم کو “منصوبہ بند اور بلا اشتعال جارحیت” قرار دیا ہے۔ پوتن نے خود اس کارروائی پر کوئی مکمل عوامی تبصرہ نہیں کیا لیکن ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کو “اخلاقیات اور بین الاقوامی قانون کی سفاکانہ خلاف ورزی” قرار دیا تھا۔