ایک ماہ میں خلیجی تیل کی پیداوار مکمل بند ہو سکتی ہے، پوتن کا الارمنگ بیان

Putin Putin

ایک ماہ میں خلیجی تیل کی پیداوار مکمل بند ہو سکتی ہے، پوتن کا الارمنگ بیان

ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر انحصار کرنے والی تیل کی پیداوار ایک ماہ کے اندر مکمل طور پر رک سکتی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی کو عالمی توانائی کی منڈی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
حکومتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ گزشتہ سال دنیا کی سمندری تیل برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ اس آبنائے سے گزرتا تھا، یعنی روزانہ 14 ملین بیرل، جن میں سے 80 فیصد ایشیائی اور بحرالکاہل کے ممالک کو جاتا تھا۔ “اب یہ راستہ عملاً بند ہو چکا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے بمباری مہم کے بعد گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے ٹریفک 80 فیصد کم ہو گئی ہے۔ ایرانی جوابی حملوں میں کئی ٹینکر نشانہ بنے جس سے خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور عالمی منڈی میں ایمرجنسی اقدامات کی توقع بڑھ گئی ہے۔
پوتن نے کہا کہ “اس آبنائے پر انحصار کرنے والی تیل کی پیداوار اگلے مہینے میں مکمل طور پر رک سکتی ہے۔ یہ پہلے ہی کم ہو رہی ہے۔” پیداوار بحال کرنے میں ہفتوں یا مہینوں لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتیں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ توانائی کی سپلائی میں خلل سے افراط زر بڑھے گا اور صنعتی پیداوار کم ہوگی۔ دنیا جلد ہی “نئی قیمتوں کی حقیقت” سے دوچار ہو جائے گی جو ناگزیر ہے۔
صدر پوتن نے زور دیا کہ روس ایک “قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ” ہے اور ایشیائی ممالک سمیت یورپی یونین کے رکن ممالک سلوواکیہ اور ہنگری جیسے قابل اعتماد شراکت داروں کو تیل اور گیس کی فراہمی جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان اور وزیر خارجہ پیٹر سزیجارٹو نے برسلز سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں روسی تیل اور گیس پر پابندی اٹھائی جائے۔ اس سے قبل امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے روسی تیل پر کچھ پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا تھا۔