ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں امریکا کا 11 ارب ڈالر کا خرچہ

F-18 F-18

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 6 دنوں میں امریکا کو کم از کم 11.3 ارب ڈالر کا خرچہ اٹھانا پڑا ہے۔ یہ تخمینہ منگل کو امریکی سینیٹرز کو دی گئی ایک بند کمرے کی بریفنگ کے دوران پیش کیا گیا، تاہم اس میں جنگ پر آنے والے تمام اخراجات شامل نہیں کیے گئے بلکہ یہ صرف ایک ابتدائی اندازہ ہے۔

اس حوالے سے کانگریس کے متعدد معاونین نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس جلد ہی جنگ کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری کے لیے کانگریس کو باضابطہ درخواست پیش کرے گا، جو کہ 50 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ابھی تک جنگ کی مجموعی لاگت یا اس کے ممکنہ دورانیے کے بارے میں کوئی واضح عوامی تخمینہ پیش نہیں کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ریاست کینٹکی کے دورے کے دوران کہا کہ امریکا نے جنگ جیت لی ہے لیکن اسے ختم ہونے تک امریکا میدان میں موجود رہے گا۔ تاہم، کانگریس کے ارکان اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ تنازع امریکی فوجی ذخائر کو کمزور کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا کی دفاعی صنعت پہلے ہی طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔