ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) نے شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، کیونکہ تیز بارشوں کا موسمی نظام بلند درجہ حرارت کے ساتھ مل کر گلیشیئرز کی تیزی سے برف پگھلنے کا باعث بن رہا ہے۔ اس خطرناک موسمی امتزاج کے نتیجے میں گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کی پہاڑی وادیوں میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے متعدد ہائی رسک زونز کی نشاندہی کی ہے، جن میں بدسوات، یاسین، اشکومن اور کھپلو کی وادیاں شامل ہیں۔ ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافے نے قراقرم ہائی وے، جگلوٹ-سکردو روڈ اور ہنزہ-گوجال روٹ سمیت اہم سفری شاہراہوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شدید بارشوں کے باعث وسیع پیمانے پر پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا امکان ہے، جس سے دور دراز کے دیہات مکمل طور پر منقطع ہو سکتے ہیں۔
ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیموں اور مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ NDMA نے سیاحوں، ٹریکرز اور غیر ضروری مسافروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں کے سفر سے گریز کریں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہیں۔ مقامی آبادی کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ NDMA کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور ریلیف ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔