اسلام آباد پر ڈرون حملے ناکام : پاک فوج نے 2افغا ن ڈرون مار گرائے

Ukrainian drone Ukrainian drone

اسلام آباد (صداۓ روس)
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے 2 ڈرونز کو سکیورٹی فورسز نے مار گرایا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کے 2 ڈرون کو سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے روک لیا اور مار گرایا۔وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ اس دہشت گرد تنظیم کو افغان طالبان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور سکیورٹی فورسز نے الیکٹرانک کاؤنٹرمیئرز کے ذریعے ڈرون مار گرائے۔وزارت اطلاعات کے مطابق کسی فوجی یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ڈرون کو مار گرانے سے گرنے والے ملبے کی وجہ سے معمولی نقصان ہوا۔وزارت اطلاعات نے بتایاکہ طالبان حکومت کے دعوؤں کے ساتھ ہمیشہ کی طرح کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں، افغان طالبان رجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کو پناہ اور معاونت فراہم کر رہی ہے اور ان دہشت گرد تنظیموں میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بھی شامل ہیں۔وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان وزارت دفاع اور رجیم کے دیگر اکاؤنٹس جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلانے کیلئے بدنام ہیں، حال ہی میں ان اکاؤنٹس نے پاکستان کا طیارے مار گرانے کا بے بنیاد دعویٰ کیا، افغان رجیم اکاؤنٹس نے پائلٹوں کو گرفتار کرنے کے بھی بے بنیاد دعوے کیے تھے۔وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کے ان اکاؤنٹس نے بعد میں شرمندگی کے ساتھ یہ دعوے حذف کیے، سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔

اس سے قبل جڑواں شہروں میں پر اسرار دھماکوں کے بعد اسلا آباد ایئر پورٹ کو عارضی طور بند کیا گیا تاہم کچھ دیر بعد پروازیں بحال کر دی گئیں۔ بعض ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی فضائی حدود میں ایک ڈرون دیکھا گیا جس کے فوراً بعد حفاظتی اقدامات کے تحت فضائی حدود کو چند منٹوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشکوک ڈرون کو فوری طور پر ناکارہ بنا کر فضا کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ڈرون مقامی سطح کا معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کے افغانستان سے آنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ترجمان پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے فلائٹ آپریشنز میں معمولی آپریشنل ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی، جس کی وجہ کچھ ناگزیر آپریشنل وجوہات تھیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ایئرپورٹ پر صورتحال معمول کے مطابق ہے اور تمام پروازیں اپنے مقررہ وقت پر آپریٹ ہو رہی ہیں۔ آپریشن غضب للحق جاری ہے جس کے تحت پاکستان کے شاہینوں نے افغانستان میں دہشتگرد وں کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی حملے کئے جبکہ وزیرستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے 4 دہشتگرد ٹھکانوں بشمول فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ان حملوں میں افواج نے کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ قندھار میں تراوو دہشتگرد کیمپس کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے، موثر فضائی کارروائیوں کے دوران قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹ اوراس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر بھی تباہ کر دیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک اور فضا ئی حملے کے دوران صوبہ پکتیا میں شیرِناؤ دہشتگرد کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا،اس کے علاوہ پاک فوج کی بروقت کارروائی نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی دراندازی کی ا یک اورکوشش ناکام بنادی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان کے قریب صدق گاؤں میں دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا گیا۔

ا فغا ن طالبان اور فتنہ الخوارج کو بلااشتعال جارحیت کے بعد ہرمحاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے، غضب للحق کے تحت کارروائیاں طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو نقصانات کی تفصیلات جاری کردیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں عطا تارڑ نے کہا آ پر یشن غضب للحق میں 663 دہشتگرد ہلاک اور 887 زخمی ہوئے،249 چوکیاں تباہ اور 44 چوکیاں قبضے میں لیں، 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں۔اْنہوں نے کہا کہ افغانستان بھر میں دہشتگردوں اور ان کے معاونین کے 70 مقامات پر فضائی حملے کیے گئے اور12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں دہشتگردوں سے منسلک ٹھکا نو ں کو نشانہ بنایا گیا، کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشتگردوں کے لاجسٹک بیسز اور کیمپوں کو ہدف بنایا گیا، فضائی حملوں کی ویڈیو بھی جاری کی گئی، نہایت درستگی کیساتھ صرف تنصیبات کو نشانہ بنایا۔پاکستانی فورسز نے کوہاٹ پر حملوں کی کوشش کرنیوالے طالبان رجیم کے3درون مار گرائے۔ افغان طالبان نے دہشتگرد ڈرونز کو اپنی فضائیہ قرار دینے کے دعوے کیے اور کوہاٹ میں فضائی حملے کی رپورٹیں میڈیا پر جاری کیں، تاہم سچائی یہ ہے کہ یہ ڈرون حملے طالبان کی پشت پناہی سے فتنہ الخوارج نے کیے تھے۔پاکستان کی مسلح افواج نے مؤثر الیکٹرانک وار فئیر اقدامات کے ذریعے تینوں ڈرونز کو مار گرایا۔ دہشتگرد ڈرونز کا ملبہ گرنے سے دو شہری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ تربیت اور جدید دفاعی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے، اور دہشتگرد عناصر کی سرحد پار سے جارحیت کے مقابلے میں ملک کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔افغان طالبان رجیم نے حالیہ کوہاٹ میں ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور انہیں اپنی فضائی کارروائی قرار دیا، تاہم پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے ان دعووں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ طالبان کی نام نہاد وزارت دفاع ماضی میں بھی غلط معلومات اور پراپیگنڈا پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے آبزرویشن ڈرونز کو باردوی مواد لے جانے کے لیے استعمال کیا، اور طالبان کا دعویٰ پاکستان میں دہشتگردی کے اعتراف کے مترادف ہے۔ افغان طالبان اور افغان میڈیا کے دعوے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔پاکستان کے ادارے مادر قطن کی سرحدوں کا پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ دفاع کر رہے ہیں، اور کوہاٹ میں ڈرون حملوں کو بروقت ناکام بنایا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ ملک کے دفاع میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی اور دہشتگرد عناصر کے ہر اقدام کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔