ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
روس کے دارالحکومت ماسکو کو یوکرین کی جانب سے ڈرون حملوں کی متعدد لہروں کا سامنا کرنا پڑا، جہاں فضائی دفاعی نظام نے کم از کم 67 ڈرونز کو مار گرایا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق یہ کارروائیاں ہفتہ کے روز کی گئیں جبکہ ان کے ٹیلیگرام چینل پر بتایا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کی ابتدائی صبح تک تقریباً ہر گھنٹے بعد ایک یا ایک سے زیادہ بغیر پائلٹ طیاروں کی دراندازی کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ سرگئی سوبیانن کے مطابق تباہ کیے گئے ڈرونز کا ملبہ جن علاقوں میں گرا وہاں ہنگامی خدمات کے اہلکاروں کو فوری طور پر تعینات کر دیا گیا تاکہ ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے اور صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ ڈرون حملوں کے باعث ماسکو کے ڈومودیڈوو اور ژوکوفسکی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔ روس کی وفاقی فضائی ٹرانسپورٹ ایجنسی روزاویاتسیا کے مطابق حفاظتی اقدامات کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا تاکہ شہری پروازوں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔ روسی وزارتِ دفاع کے مطابق جمعہ کی شام سے اب تک روسی فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 280 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ماسکو کے علاوہ بریانسک، کلوگا، بیلگورود، تْویر، اسمولینسک، کرسک اور کراسنودار کے علاقوں میں بھی ڈرونز کو روک کر تباہ کیا گیا۔
میئر سرگئی سوبیانن کے مطابق اس سے قبل آٹھ مارچ کو بھی روسی دارالحکومت پر ڈرون حملے کی کوشش کی گئی تھی جس کے دوران چھ ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ کریملن کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ کیف کی حکومت میدانِ جنگ میں روسی پیش قدمی کو روکنے میں ناکامی کے بعد شہری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی حکام کا مؤقف ہے کہ روس کو نمایاں اقتصادی نقصان پہنچانے سے اسے چار سال سے جاری تنازع میں اپنے مقاصد ترک کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں پر حملوں کے جواب میں ماسکو نے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بارے میں روس کا دعویٰ ہے کہ وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے خودکش ڈرونز کی تیاری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔