پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے چین کی براہِ راست ثالثی

Chinese flags Chinese flags

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

چین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کرانے کے لیے براہِ راست ثالثی کر رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک فروری سے شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے پیر کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ ترجمان کے مطابق افغانستان سے متعلق چینی وزارت خارجہ کے خصوصی ایلچی بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے مسلسل افغانستان اور پاکستان کے درمیان آمد و رفت کر رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک میں قائم چینی سفارت خانے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ چین نے واضح کیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ پاکستان اور افغانستان تحمل کا مظاہرہ کریں گے، جلد از جلد براہِ راست مذاکرات کریں گے، فوری جنگ بندی پر اتفاق کریں گے اور اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب اسلام آباد نے فروری میں ’’اوپن وار‘‘ کا اعلان کیا، جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے اندر مختلف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں دارالحکومت کابل کے قریب مقامات بھی شامل تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کی ایک وجہ کابل حکومت کے پاکستان کے دیرینہ حریف بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط بھی ہیں۔ اس سے قبل رواں ماہ چین نے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی بھیجا تھا، جب گزشتہ سال اکتوبر میں قطر اور ترکی کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی ناکام ہو گئی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو پناہ لے رہے ہیں، تاہم افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں میں افغان فورسز کو تقریباً ایک ہزار کے قریب جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنازع چین کے لیے صرف سکیورٹی بحران نہیں بلکہ خطے میں اقتصادی و علاقائی رابطوں کے اس کے وسیع تر منصوبوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔