ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کیوبا میں پیر کے روز پورے ملک میں بجلی کی مکمل بندش ہو گئی جس کی تصدیق کیوبا کی وزارت توانائی نے کی ہے۔ یہ بندش امریکی تیل کی ناکہ بندی کے باعث ملک کی پرانی بجلی گھروں پر دباؤ بڑھنے سے پیدا ہوئی ہے جس نے تقریباً ایک کروڑ گیارہ لاکھ افراد کو بجلی سے محروم کر دیا۔ حکام کے مطابق ایمرجنسی پروٹوکول فوری طور پر فعال کر دیے گئے اور کئی علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے جن میں ماتانزاس کے فوسٹینو پیریز ہسپتال بھی شامل ہے۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ اس بندش کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ کیوبا کو طویل عرصے سے بجلی کی کٹوتیاں اور ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے جب سے امریکہ نے کیوبا کو تیل برآمد کرنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کے روس، چین، ایران اور فلسطین نواز مسلح گروہوں سے روابط کو اس اقدام کی توجیہ قرار دیا۔
جنوری کے شروع میں امریکہ نے کیوبا کے سب سے بڑے تیل سپلائر وینزویلا میں کمانڈو آپریشن کیا جس میں صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا گیا۔ ٹرمپ نے مادورو پر منشیات کے کارٹل چلانے کا الزام لگایا تھا جبکہ مادورو نے نیویارک کی عدالت میں پیشی کے دوران ان الزامات کی تردید کی۔
جمعہ کو کیوبا کے صدر مگوئل ڈیاز کینل نے کہا کہ کیوبا واشنگٹن کے ساتھ مکالمے کے لیے تیار ہے “بغیر اپنے اصولوں اور خودمختاری سے دستبردار ہوئے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “شیطانی” ناکہ بندی کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ سے کیوبا کو کوئی تیل کی ترسیل نہیں ملی جس کا اثر بہت سے لوگوں پر پڑا ہے بشمول طبی امداد کے محتاج بچوں پر۔
روس، چین اور اقوام متحدہ نے امریکی ناکہ بندی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے “غیر انسانی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش اور کٹوتیاں شہری آبادی کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہیں۔