روس میں تارکینِ وطن کے لیے قوانین سخت کرنے کی تجویز

Immigrants in Russia Immigrants in Russia

ماسکو (صداۓ روس)

روسی وزارتِ داخلہ نے ملک میں ہجرت سے متعلق پالیسی کو مزید سخت بنانے کے لیے نئے قانونی مسودے کی تیاری کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کے قانون سازی سے متعلق کمیشن نے اس اقدام کی منظوری بھی دے دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مجوزہ ترمیمات کے تحت غیر ملکی شہریوں کی جانب سے انتہا پسندی، عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے یا معلوماتی سلامتی کی خلاف ورزی جیسے جرائم پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت بعض خلاف ورزیوں کی صورت میں غیر ملکی شہریوں کو روس سے ڈی پورٹ کرنا بنیادی سزا کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ قانونی مسودے کے مطابق مذہبی قوانین کی خلاف ورزی، ہڑتال پر مجبور کرنا، میڈیا کی آزادی کا غلط استعمال اور آڈیو ویژول سروسز کے ذریعے انتہا پسند مواد کی تشہیر جیسے جرائم بھی ڈی پورٹیشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر آرٹیکل 20.29 ضابطۂ انتظامی خلاف ورزیاں کے تحت انتہا پسند مواد کی اشاعت کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اس پر ملک بدری کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ملک بدری سے متعلق مقدمات کے عدالتی جائزے کی مدت بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بعض جرائم میں ملزم کے کردار کے لازمی جائزے کی شرط ختم کرنے کی بات بھی شامل ہے۔ خاص طور پر ناپسندیدہ غیر ملکی تنظیموں کی سرگرمیوں سے متعلق مقدمات میں یہ تبدیلیاں متوقع ہیں۔

اس کے علاوہ مسودے میں غیر ملکی شہریوں کے قیام کے قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو ضابطۂ انتظامی خلاف ورزیوں کے باب 18 کے تحت آتے ہیں۔ قانونی ماہر انا منوشکینا کے مطابق یہ اقدام 2024 میں شروع ہونے والے اس وسیع پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت روس میں امیگریشن قوانین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت بعض معاملات میں ملک بدری کا اختیار براہِ راست وزارتِ داخلہ کے حکام کو دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے قبل صدر پوتن نے 4 مارچ کو غیر قانونی ہجرت کے خلاف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس شعبے میں اٹھائے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔