ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث امریکا کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد امریکی انٹیلی جنس اداروں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو ایک غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔ وہ جولائی 2025 میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر کے طور پر تعینات ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ امریکی اسپیشل فورسز اور سی آئی اے میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جو کینٹ کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اس لیے وہ اپنے ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ دراصل اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔
جو کینٹ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا جواز قانونی طور پر بھی مبہم ہے۔ ان کے مطابق امریکی قانون کے تحت کسی جنگ کے آغاز کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو کسی فوری اور واضح خطرے کا سامنا ہو، تاہم ایران کے معاملے میں ایسی صورتحال موجود نہیں تھی۔
رپورٹس کے مطابق ان کے استعفے کے بعد امریکی انٹیلی جنس حلقوں میں اس فیصلے پر بحث جاری ہے اور اسے ایران کے خلاف امریکی پالیسی پر پیدا ہونے والے اندرونی اختلافات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔