ماسکو (صداۓ روس)
روس نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری مسلح جھڑپوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تصادم ختم کرنے اور مسائل کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان Maria Zakharova نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ماسکو کو روس کے دوست ممالک افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری فوجی کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔ زاخارووا کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھی سنگین نقصان پہنچ رہا ہے اور متعدد افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 16 مارچ کی شام Kabul میں ایک فضائی حملے کے دوران منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں تقریباً 400 شہری جاں بحق جبکہ 240 زخمی ہوئے۔ روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ماسکو متاثرین کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور ایک بار پھر اسلام آباد اور کابل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ محاذ آرائی کے بے نتیجہ راستے کو ترک کریں اور اپنے اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
اس سے قبل افغان حکومت کے ترجمان Zabihullah Mujahid نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی فضائیہ نے کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا۔ تاہم اسلام آباد نے افغان حکام کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی صرف فوجی تنصیبات کے خلاف کی گئی تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے بتایا ہے کہ کابل پر پاکستانی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 408 ہو گئی ہے جبکہ کم از کم 265 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں 26 فروری کی شام دوبارہ شروع ہوئی تھیں۔ کابل کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں فوجی کارروائی شروع کی۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر دفاع Khawaja Asif نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان اب کھلی مسلح محاذ آرائی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔