ڈریگن ڈسٹرائر کی تاخیر نے برطانیہ کی کمزور فوجی قوت ظاہر کردی، سفیر

Andrey Kelin Andrey Kelin

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

برطانیہ کے ڈریگن ڈسٹرائر کی قبرص کی حفاظت کے لیے پہنچنے میں طویل تاخیر نے لندن کی فوجی “چھتری” کی بے کاری کو عیاں کر دیا ہے۔ برطانیہ میں روسی سفیر انڈریے کیلن نے یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ “امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایران کی شدید مزاحمت اور تنازعے کا پورے علاقے میں تیزی سے پھیلنا برطانوی منصوبہ سازوں کو بالکل غیر تیار پایا۔ اس کی ذمہ داری مقامی سیاستدان حکومت پر ڈال رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی آپریشنز کے لیے ناکافی تیاری کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔”
سفیر کیلن نے مزید کہا کہ “وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی اس احتیاطی حکمت عملی نے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ علاقائی ممالک اپنی سرزمین پر برطانوی فوجی اڈوں کی اجازت دیتے ہیں تو اس توقع کے ساتھ کہ بحران کی صورت میں وہ برطانوی فوجی ’چھتری‘ کے نیچے محفوظ رہیں گے۔ تاہم واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ چھتری بالکل بے کار نکل آئی ہے۔”