ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کا اہم معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی وزارت دفاع اور سعودی عرب کی وزارت دفاع کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات سے قبل اس دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ صدر زیلنسکی نے بتایا کہ یہ دستاویز مستقبل میں معاہدوں، ٹیکنالوجیکل تعاون اور سرمایہ کاری کی بنیاد فراہم کرے گی اور اس سے یوکرین کا دفاعی شعبے میں عالمی کردار کا تاثر بھی مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین سعودی عرب کے ساتھ اپنی مہارت اور دفاعی نظام فراہم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ زیلنسکی نے نشاندہی کی کہ یوکرین گزشتہ پانچ سال سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے دہشت گردانہ حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے، جو اس وقت ایران کی حکومت مشرق وسطیٰ اور خلیج میں کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیت موجود ہے جو یوکرین کے مفاد میں ہے اور یہ تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
زیلنسکی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ اور خلیج کی مجموعی صورتحال، روس کی ایرانی حکومت کو مدد، تیل کی مارکیٹ میں پیش رفت اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بتایا کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے اب تک ایران کی جانب سے داغے گئے سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ صرف جمعے کے روز تقریباً 6 میزائل روکے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے ڈرون حملوں کا طویل عرصے سے سامنا کرنے والے یوکرین نے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر حملوں کے بعد ان ممالک سے دفاعی تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی۔ رواں ماہ زیلنسکی نے بتایا تھا کہ ایرانی حملوں کے خلاف دفاع میں تعاون کے لیے 201 اینٹی ڈرون ماہرین کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے۔
یوکرین کی ایئر ڈیفنس کور فورسز کے ڈپٹی کمانڈر یوری چیرریواشینکو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کو ریت کے طوفان جیسے خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن انہیں کامیابی سے روکنے کا انحصار پائلٹ کی مہارت پر ہے۔
یوکرین روس کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سستا مگر مؤثر انٹرسیپٹر ڈرون تیار کرنے والا اہم ملک بن چکا ہے۔ 2024 کے آخر سے روسی ڈرون حملوں میں شدت آ گئی ہے اور صرف رواں برس کی سردیوں میں روس نے یوکرین پر 19 ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے ہیں۔