ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اور یورپی رہنماؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے میں ناکام رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں بدھ کو منعقدہ ایسٹر لنچ کے دوران ٹرمپ نے نیٹو کو “پیپر ٹائیگر” قرار دیا اور مایوسی کا اظہار کیا کہ نیٹو کے دیگر اراکین نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یورپی ممالک کی وفاداری اور حمایت کا امتحان لینے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ اس امتحان میں ناکام رہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر نیٹو اس صورتحال میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکتا تو امریکہ نیٹو سے نکلنے پر بھی غور کرسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا میں نے نیٹو کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ اگر کبھی بڑی جنگ ہوئی تو نیٹو ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔ انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر سے ہونے والی گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے میکرون کے بارے میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی اپنی بیوی کے ہاتھوں لگنے والے “ٹھوکر” سے صحتیاب ہو رہے ہیں۔ سٹارمر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس “دو پرانی اور خراب ہو چکی ایئر کرافٹ کیریئرز” ہیں جنہیں کابینہ کی منظوری کے بغیر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔