اسلام آباد (صداۓ روس)
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ملک بھر میں موٹروے اور قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مختلف موٹروے پر کاروں کے ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے نرخوں کے مطابق اسلام آباد سے پشاور جانے والی ایم-1 موٹروے پر کار کا ٹول 700 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور سے عبدالحکیم تک ایم-3 موٹروے پر کاروں کے لیے ٹول فیس 800 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کر دی گئی ہے۔ پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور ملتان جانے والی ایم-4 موٹروے پر کاروں کا ٹول 1050 روپے سے بڑھا کر 1300 روپے کر دیا گیا ہے۔ ملتان سے سکھر تک ایم-5 موٹروے پر کار کا ٹول 1200 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ڈی آئی خان سے ہکلہ تک ایم-14 موٹروے پر کاروں کا ٹول 650 روپے سے بڑھا کر 800 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ حسن ابدال، حویلیاں اور مانسہرہ کے درمیان ای-35 موٹروے پر کاروں کا ٹول 300 روپے سے بڑھا کر 350 روپے کر دیا گیا ہے۔ عام قومی شاہراہوں پر کاروں کا ٹول 100 روپے اور کوہاٹ ٹنل کا ٹول 250 روپے کر دیا گیا ہے۔
بڑی گاڑیوں خصوصاً آرٹیکیولیٹڈ ٹرکوں کے ٹول ٹیکس میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے اور بعض روٹس پر ان کا ٹول 7000 روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئے ٹول نرخوں کا اطلاق 5 اپریل 2026 سے ہو گا۔