ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں، صدر ٹرمپ

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی زمینی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ فضائی حملوں کے ذریعے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ پوڈ فورس ون پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوبارہ کشیدگی یا فوجی کارروائی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت امریکی فوجیوں کو زمینی سطح پر تعینات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے بمباری کے ذریعے ایرانی فوجی صلاحیتوں کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔ نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ستمبر کے آغاز تک بحری ناکہ بندی برقرار رہنے کا امکان کم ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ ناکہ بندی کچھ عرصہ مزید جاری رہ سکتی ہے، تاہم انہیں توقع ہے کہ موجودہ صورتحال نسبتاً جلد حل ہو جائے گی اور معاملات کسی معاہدے کی جانب بڑھیں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے تک امریکہ بحری ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، فوجی سرگرمیوں اور سفارتی رابطوں نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، جبکہ خطے کی صورتحال کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔