پاکستان میں ائیر کنڈیشنر متوسط طبقے کے لیے اب بھی ایک لگژری کیوں؟

Air conditioners Air conditioners

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں گرمیوں کے دوران درجۂ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں شدید گرمی معمول بن چکی ہے، لیکن اس کے باوجود ائیر کنڈیشنر (اے سی) اب بھی بیشتر متوسط طبقے کے لیے ایک ضرورت کے بجائے لگژری شے سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کئی معاشی، تکنیکی اور سماجی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں ایک معیاری ائیر کنڈیشنر خریدنے کے لیے خاطر خواہ رقم درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ مقامی مارکیٹ میں مختلف برانڈز اور اقسام دستیاب ہیں، لیکن ایک اچھے انورٹر اے سی کی قیمت بھی ایک متوسط خاندان کے بجٹ پر نمایاں بوجھ ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے ماہانہ بل میں نمایاں اضافہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خاندان اے سی خریدنے کے باوجود اس کا مسلسل استعمال نہیں کر پاتے۔

بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے ائیر کنڈیشنر کے استعمال کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔ ایک عام متوسط گھرانے کے لیے گرمیوں میں بجلی کا بل کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ پنکھوں یا ایئر کولرز پر انحصار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اگرچہ ملک کے کئی شہروں میں بجلی کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے، لیکن متعدد علاقوں میں اب بھی لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کے مسائل موجود ہیں۔ بجلی کی غیر یقینی فراہمی کی وجہ سے اے سی کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انورٹر، سولر سسٹم یا جنریٹر درکار ہوتے ہیں، جو اضافی اخراجات کا باعث بنتے ہیں۔

کئی ممالک میں گھریلو آلات کی خریداری کے لیے آسان اقساط یا سرکاری سبسڈی پروگرام موجود ہیں، جبکہ پاکستان میں ایسی سہولیات محدود ہیں۔ نتیجتاً بیشتر خاندانوں کو مکمل رقم ایک ساتھ ادا کرنا پڑتی ہے، جو بہت سے متوسط طبقے کے افراد کے لیے ممکن نہیں۔

پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اب بھی پنکھے، ایئر کولرز، مٹی کے گھڑے، پانی کا چھڑکاؤ اور قدرتی ہوا کے ذریعے ٹھنڈک حاصل کرنے کے روایتی طریقے عام ہیں۔ بہت سے خاندان ان کم خرچ متبادل ذرائع کو کافی سمجھتے ہیں۔

متوسط طبقے کے بیشتر خاندانوں کی آمدنی محدود ہوتی ہے۔ ایسے میں تعلیم، صحت، رہائش، خوراک اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی اخراجات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ائیر کنڈیشنر خریدنا اور چلانا اکثر ان ترجیحات کی فہرست میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
ائیر کنڈیشنرز بجلی کی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف گھریلو اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ قومی توانائی نظام پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ توانائی کے بحران سے دوچار ملک میں بعض افراد زیادہ بجلی استعمال کرنے سے گریز کو ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر بجلی کے نرخوں میں استحکام آئے، توانائی کا انفراسٹرکچر بہتر ہو، سولر ٹیکنالوجی مزید سستی ہو جائے اور آسان اقساط کی سہولت فراہم کی جائے تو متوسط طبقے کے لیے ائیر کنڈیشنر کا حصول نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی بچانے والے جدید انورٹر ماڈلز بھی اس خلا کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

شدید گرمی کے باوجود پاکستان میں ائیر کنڈیشنر اب بھی ایک ایسی سہولت ہے جو بہت سے متوسط طبقے کے خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ جب تک معاشی حالات، بجلی کے نرخ اور بنیادی انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری نہیں آتی، اے سی بیشتر خاندانوں کے لیے ایک خواہش ہی رہے گا، روزمرہ ضرورت نہیں۔