
اشتیاق ہمدانی
جب بھی یہ محسوس ہونے لگے کہ معاشرہ تقسیم، نفرت اور خود غرضی کا شکار ہو چکا ہے، تو جولائی 2017 کا فلوریڈا کے پاناما سٹی بیچ کا وہ منظر امید کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آتا ہے۔
اس روز ایک خاندان سمندر کے خطرناک رِپ کرنٹ (Rip Current) کی زد میں آ گیا۔ ماں، اس کے دو بیٹے، ایک بھانجا اور دادی تیز لہروں میں گھر گئے۔ وہ ساحل سے تقریباً سو میٹر دور زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے۔ قریب کوئی لائف گارڈ موجود نہیں تھا اور پولیس لوگوں کو مسلسل خبردار کر رہی تھی کہ پانی میں نہ اتریں، کیونکہ یہ بہاؤ اتنا خطرناک تھا کہ اکیلے کسی کے لیے بھی ان تک پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔
لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جو انسانیت کی تاریخ کے خوبصورت ترین مناظر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
ساحل پر موجود تقریباً اسی افراد، جو ایک دوسرے سے مکمل طور پر ناواقف تھے، بغیر کسی منصوبہ بندی، حکم یا قیادت کے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامتے چلے گئے۔ کوئی سیاح تھا، کوئی مقامی شہری، کوئی نوجوان، کوئی بزرگ، کوئی مرد، کوئی عورت۔ نہ وہ ایک خاندان تھے، نہ ایک قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، نہ کسی ایک مذہب، نسل، زبان یا سیاسی نظریے کے نمائندہ تھے۔ ان کے درمیان صرف ایک مشترک رشتہ تھا: ایک انسان کو بچانے کی ذمہ داری۔
یوں انسانوں کی ایک زندہ زنجیر وجود میں آئی، جو سمندر کی بے رحم لہروں کا مقابلہ کرتی ہوئی ڈوبتے ہوئے خاندان تک پہنچی۔ ایک ایک شخص کو ہاتھوں سے ہاتھوں میں منتقل کیا گیا، یہاں تک کہ سب بحفاظت ساحل پر واپس آ گئے۔ اس دن ایک بھی جان ضائع نہیں ہوئی۔
یہ واقعہ صرف ایک کامیاب ریسکیو آپریشن نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت تھا کہ جب انسان اپنے ذاتی مفادات، شناختوں اور اختلافات سے بلند ہو کر ایک مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو وہ ایسے کام کر گزرتے ہیں جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔
اسی جذبے کی ایک جھلک آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی منظم اور پرامن جدوجہد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
یہاں بھی مختلف علاقوں، مختلف زبانوں، مختلف برادریوں، مختلف معاشرتی طبقات اور مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے لوگ ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے۔ نہ کوئی ایک دوسرے کو ذاتی طور پر جانتا تھا، نہ کوئی کسی مخصوص قبیلے کی نمائندگی کر رہا تھا، نہ کسی خاص برادری یا فرقے کے نام پر کھڑا تھا، اور نہ ہی کسی ایک سیاسی جماعت کے جھنڈے تلے جمع ہوا تھا۔
بلکہ ہر شہر، ہر قصبے، ہر گاؤں، ہر پیشے اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ صرف ایک مقصد کے لیے ایک صف میں کھڑے ہوئے: اپنے جائز حقوق کے حصول، عوامی مفاد کے تحفظ اور انصاف کی آواز بلند کرنے کے لیے۔
یہ جدوجہد اس لیے منفرد تھی کہ اس کی بنیاد تشدد، نفرت یا انتقام پر نہیں بلکہ نظم، اتحاد، صبر، اجتماعی شعور اور پرامن مزاحمت پر رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک نے صرف اپنے مطالبات کو اجاگر نہیں کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ ایک منظم، باوقار اور پرامن عوامی تحریک معاشرے میں مثبت تبدیلی کی مؤثر طاقت بن سکتی ہے۔
فلوریڈا کے ساحل پر انسانوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر جانیں بچائیں، جبکہ کشمیر میں عوام نے اتحاد کی زنجیر بنا کر اپنے حقوق کی جدوجہد کو نئی طاقت بخشی۔ دونوں مناظر بظاہر مختلف ہیں، مگر ان کی روح ایک ہی ہے۔
ایک طرف سمندر کی لہریں انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہتی تھیں، دوسری طرف زندگی کے مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل لوگوں کو تقسیم کر سکتے تھے۔ مگر دونوں جگہ ایک حقیقت غالب آئی: جب لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں تو بڑی سے بڑی طاقت بھی انہیں آسانی سے شکست نہیں دے سکتی۔
تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ منتشر قوموں کی آوازیں دب جاتی ہیں، لیکن جب لوگ ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح جڑ جائیں تو ان کی اجتماعی قوت ناقابلِ نظرانداز بن جاتی ہے۔
فلوریڈا کے وہ اسی اجنبی انسان اور کشمیر کے ہزاروں پرامن شہری ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ اصل طاقت نہ ہتھیاروں میں ہوتی ہے، نہ نعروں میں، بلکہ اتحاد، نظم، باہمی اعتماد اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس میں ہوتی ہے۔
جب لوگ رنگ، نسل، زبان، قبیلے، برادری، سیاسی وابستگی، مذہب اور فرقے سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، تو پھر نہ سمندر کی بے رحم لہریں ان کے حوصلے کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی مشکلات کے طوفان ان کے عزم کو شکست دے سکتے ہیں۔
یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے:
اتحاد کمزوروں کو طاقت دیتا ہے، نظم انہیں منزل تک پہنچاتا ہے، اور پرامن جدوجہد قوموں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔