ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
دنیا بھر میں وسائل اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کے باعث بھوک میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں 735 ملین سے زیادہ افراد بھوک کا شکار ہیں، جبکہ ہر سال تقریباً 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی فراہمی اور وسائل کی عدم مساوات، جنگیں، موسمیاتی تبدیلی اور غربت عالمی بھوک کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جہاں ایک طرف ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کا ضیاع بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، وہیں غریب ممالک میں لاکھوں افراد کو خوراک کی بنیادی ضرورت بھی میسر نہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ خوراک تک رسائی کے لیے عالمی سطح پر مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور بڑھتے ہوئے غذائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔