ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے گزشتہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے دیگر اعلیٰ مشیروں کو نجی طور پر واضح کیا ہے کہ امریکا کو ایران جنگ سے نکلنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق کین کا کہنا ہے کہ کشیدگی بڑھانے کے لیے دستیاب فوجی آپشنز الٹا اثر کر سکتے ہیں اور صرف فضائی طاقت سے ٹرمپ کے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ۔ کین کے مطابق فضائی حملے ایران کو ٹرمپ کی شرائط پر معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، اور وہ اس جنگ سے نکلنے کے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا کہ “کین آف ریمپ تلاش کر رہے ہیں” ۔ جنرل کین نے عوامی سماعت میں کہا تھا کہ “فضائی طاقت کی اپنی حدود ہیں،” جو جنگ کے اسٹریٹجک سنگم کی عکاسی کرتا ہے ۔ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں خطرناک کمی بھی کین کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق، ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں کم از کم 65 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ تھاڈ انٹرسیپٹرز کی تعداد 38 فیصد کم ہو گئی ہے ۔ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 687 زخمی ہو چکے ہیں ۔
واشنگٹن پوسٹ-آئیپسوس پول کے مطابق 68 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ “لڑنے کے قابل نہیں ہے،” جبکہ ایک نیا رائٹرز-آئیپسوس پول بتاتا ہے کہ صرف ایک تہائی امریکی ایران جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جو پانچ ماہ پرانی جنگ کے آغاز کے بعد سب سے کم سطح ہے ۔