نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کے ناقدین کی شہریت سلب کرنے کی تجویز

Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی شہری فوج کی بدنامی کے مرتکب پائے جائیں تو ان کی شہریت سلب کر لی جانی چاہیے۔ بدھ کو ایک ویڈیو خطاب میں نتن یاہو نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم نازا پر تنقید کی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور انٹیلیجنس سروسز نے اے آئی کی مدد سے اہداف منتخب کیے اور ممکنہ شہری ہلاکتوں کو قابل قبول نقصان سمجھا۔ نتن یاہو نے دو بل پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ پہلا، ان افراد کی شہریت منسوخ کرنا جو اسرائیلی فوجیوں کی بدنامی کرتے ہیں، اور دوسرا، ان کی جیبوں پر مارنا اور بدنامی کے قانونی ہرجانے میں 20 گنا اضافہ کرنا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں جیب اور شہریت دونوں سے مارا جائے، کیونکہ ان کا ہمارے درمیان کوئی مقام نہیں ہے۔ نتن یاہو نے اپنی تقریر میں بائیں بازو کی ڈیموکریٹس پارٹی کے رہنما اور سابق آئی ڈی ایف ڈپٹی چیف آف اسٹاف یائر گولان کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اسرائیلی فوجی “بچوں کو قتل کرنا ایک مشغلہ سمجھتے ہیں۔”

دستاویزی فلم نازا کی ٹیم نے اپنی تحقیقات کا دفاع کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیلی فوجیوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیل پر شہریوں کو اندھا دھند قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد سے غزہ میں تقریباً 74,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ بین الاقوامی عدالت انصاف غزہ میں اسرائیل کے طرز عمل پر نسل کشی کا مقدمہ سن رہی ہے۔