ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکی میزائل ذخائر نمایاں طور پر ختم ہو گئے ہیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مزید حملوں کا حکم دینے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔ اے بی سی نیوز نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ دی کہ امریکی میزائل ذخائر “انتہائی کم” ہیں، خاص طور پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے جارحانہ میزائلوں اے ٹی اے سی ایم ایس اور پی آر ایس ایم کی انوینٹریز میں کمی تشویش کا باعث ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر دو تہائی کم ہو گئے ہیں، جبکہ تھاڈ میزائل انوینٹری نصف رہ گئی ہے۔ اس سے قبل سی این این نے رپورٹ دی تھی کہ امریکی فوج نے اپنی تھاڈ میزائل انوینٹری کا 80 فیصد اور پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا نصف حصہ استعمال کر لیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے 5 اگست کو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ ٹرمپ نے 31 جولائی کو وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ایران تنازع کے دوران ہتھیاروں کی شدید کمی کے بارے میں کیوں غلط معلومات دی گئیں۔ تاہم ٹرمپ نے ان الزامات کی تردید کی۔